خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 648 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 648

$2004 648 خطبات مسرور نیکیوں پر چلنے والے کہلاؤ گے۔ورنہ مسیح و مہدی کو ماننے کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرنے کے باوجود کہ ہم نے زمانے کے امام کو مان لیا ہے، نیکیاں قائم کرنے والے اور نیکیوں پر عمل کرنے والے نہیں ہو گے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو بڑا واضح حکم دیا ہے کہ نمازوں کو قائم کرو۔جیسا کہ فرماتا ہے۔وَأَقِيْمُوا الصَّلوةَ وَاتُوا الزَّكَوةَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ (النور: 57) نماز قائم کرو۔اس کو مسجد میں جا کر ادا کرو۔زکوۃ دو۔رسول کی اطاعت کرو۔زکوۃ بھی ایک قربانی ہے ایک نیکی ہے۔رسول کی اطاعت یہی ہے کہ جو بھی احکامات دیئے وہ کرو تم اس طرح یہ نیکیاں کرو گے، نمازیں وقت پہ اور باجماعت ادا کرو گے تو پھر تم پر رحم کیا جائے گا۔ورنہ نہ تم رحم کی توقع رکھو اور نہ ہی تمہارا یہ دعویٰ صحیح ہے کہ ہم نیکیوں پر قائم ہیں۔کیونکہ نیکی پر چلنے والے، نیکی میں بڑھنے والے اس وقت کہلاؤ گے جب وقت پر نماز ادا کر رہے ہو گے، کیونکہ وقت پر نماز ادا کرنا بہت ضروری ہے۔جیسا کہ فرمایا ہے اِنَّ الصَّلوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ كِتَابًا مَّوْقُوْتًا) (النساء: 104) کہ نماز یقیناً مومنوں پر وقت پر ادا کرنا فرض ہے۔تو نیکی یہی ہے کہ ایک تو نمازیں باجماعت ادا کی جائیں، دوسرے وقت پر ادا کی جائیں۔اگر دنیا کی چکا چوند ، کام کی مصروفیت، پیسے کمانے کالالچ نمازوں سے روکتا ہے تو یہ نیکی نہیں ہے۔اس لئے اپنی فکر کرو۔صحابہ کرام نیکیوں میں بڑھنے میں کس قدر فکر کیا کرتے تھے۔ایک حدیث سے پتہ لگتا ہے۔کہ ایک دفعہ مالی لحاظ سے کم اور غریب صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بڑے شکوے اور شکایت کے رنگ میں عرض کی کہ یا رسول اللہ ! جس طرح ہم نمازیں پڑھتے ہیں اسی طرح امراء بھی نمازیں پڑھتے ہیں۔جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں۔اسی طرح امراء بھی روزے رکھتے ہیں۔جس طرح ہم جہاد کرتے ہیں اسی طرح امراء بھی جہاد کرتے ہیں۔مگر یا رسول اللہ ! ایک زائد کام وہ کرتے ہیں۔وہ صدقہ خیرات بھی دیتے ہیں جو ہم اپنی غربت اور ناداری