خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 645 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 645

$2004 645 خطبات مسرور تھا، مسیح و مہدی کو مان کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زیادہ مضبوط بندھن اور تعلق کا اگر دعوی کرتے ہیں تو آپ کے لئے اگر کامیابی کی کوئی راہ ہے اور آپ اگر اللہ تعالیٰ کے قرب اور اس کی رضا کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پھر صرف اور صرف یہی راستہ ہے کہ نیکیوں میں آگے بڑھیں۔یہی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اگر تم مسلمان ہو اور پکے مسلمان ہو تو تمہیں خوشی سے اچھلنا چاہئے ،خوش ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک راستہ دکھا دیا جو اس کی طرف لے جانے والا ہے۔دنیا میں مختلف تنظیمیں بنتی ہیں، ایسوسی ایشنیں بنتی ہیں ان کا کوئی نہ کوئی مطمح نظر ہوتا ہے، کوئی ماٹو ہوتا ہے۔اور کوشش کرتی ہیں کہ اس کو حاصل کریں اور پھر انفرادی طور پر بھی انسان اپنی زندگی کو ایک مقصد بناتا ہے، اس کے بارے میں سوچتا ہے اور پھر اس کے حصول کے لئے کوشش بھی ہوتی ہے۔لیکن ان سب کا جو مقصد ہے وہ دنیا داری ہے کیونکہ کسی کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کا وعدہ نہیں ہے کہ یہ مقاصد حاصل کرنے کے بعد تمہارا انجام بخیر ہوگا۔کوئی ضمانت نہیں ہے۔لیکن ہمارے سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر تم اسلام پر اسی طرح عمل کر رہے ہو جس طرح اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے اور اس کی وضاحت اور تشریح زمانے کے امام نے کی ہے تو نہ صرف یہ نیکیاں قائم کر کے تم دنیا میں بہترین مخلوق ہو بلکہ اگلے جہان میں بھی اللہ کی رضا حاصل کرنے والے ہو، فلاح پانے والے ہو۔چنانچہ دیکھ لیں یہ تنظیمیں بظاہر جو بڑے بڑے مقاصد لے کر اٹھتی ہیں، ملکوں میں صلح کرانے کا دعولی لے کر اٹھتی ہیں، بظاہر نیک کام کے لئے بنی ہوتی ہیں لیکن کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے والی نہیں اس لئے جو یہ دعویٰ لے کر اٹھی تھیں کہ ہم دنیا میں نیکیوں کو پھیلائیں گے اور امن قائم کریں گے، کچھ بھی نہ کر سکیں۔کیونکہ نیکی تو اللہ تعالیٰ کی خشیت سے پیدا ہوتی ہے۔وہ کیونکہ ان میں نہیں تھی اس لئے نیکیوں پر قائم نہ رہ سکے۔ذاتی ہلکی اور ہر قوم کے قومی مفاد آڑے آ گئے اور دوسری جنگ عظیم کو بھی نہ روک سکے۔اور پھر یو این او (U۔N۔O) بنی لیکن وہ بھی دیکھ لیں اب چند قوموں کے ہاتھوں میں ہے۔اب پھر حالات اس نہج پر چل رہے ہیں ،غریب ملکوں کو ایک طرح سے یرغمال بنا کر ان پر ظلم کئے جا رہے ہیں۔ان کے وسائل کو اپنے ہاتھ میں لے کر اپنی من مانی شرطیں منوائی