خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 634 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 634

$2004 634 خطبات مسرور میری مدد کر رہے ہوں گے اتنی زیادہ جماعت میں مضبوطی آتی چلی جائے گی اور اتنی زیادہ آپس کی محبت بڑھتی چلی جائے گی۔بہر حال یہ ضمنا بات آگئی تھی۔اصولی طور پر یہ نہیں ہے کہ سلام کرنے والا آدھا سلام کرے یا مختصر الفاظ میں کرے اور جواب دینے والا ضرور پورا جواب دے۔دونوں طرف سے جتنی زیادہ دعائیں دی جائیں اتنا زیادہ بہتر ہے۔میں بعض اوقات پورا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ بھی کہتا ہوں۔اور جس طرح حدیث میں ہے کہ اس کو رواج دینا چاہئے۔ہر کوئی کیونکہ اس طرح سوچ کر نہ تو سلام کر رہا ہوتا ہے اور نہ جواب دینے والا سوچ کر جواب دیتا ہے اس لئے انفرادی طور پر یا ویسے بھی عام طور پر جو لوگ ملیں تو زیادہ ثواب اسی میں ہے جتنے زیادہ الفاظ سلامتی کے، دعا کے دوہرائیں گے۔یہ وضاحت میں نے اس لئے تفصیل سے دے دی ہے کہ بعض لوگ نا کبھی میں بعض باتوں میں کچے ہو جاتے ہیں۔حضرت خلیفتہ اصبح الرابع رحمہ اللہ تعالی کی اگرکسی نے یہ بات سنی ہو تو ہو سکتا ہے کہ وہ اس بات پہ جان بوجھ کر قائم ہی ہو جائے کہ سلام صرف اتنا ہی فرض ہے کہ مختصر کیا جائے اور جواب دینے والا زیادہ جواب دے۔کیونکہ بعض باتیں موقع محل کے حساب سے اور بعض لوگوں کے مقام کے لحاظ سے ہوتی ہیں، وہ اصول نہیں بن جایا کرتے۔اصول وہی ہیں جو ہمیں ہمارے آقا و مطاع محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے ہیں اور ہمیں تو جتنا زیادہ ثواب حاصل کر سکیں کرنا چاہئے۔اور یہ لوٹانے والے کا بھی فرض ہے کہ وہ بھی بڑھا کر لوٹائے تا کہ اس کو بھی ثواب ملے اور جس کو وہ سلام کا جواب دے رہا ہے اس کو بھی ثواب ملے۔پھر جن باتوں کے کرنے سے مومن جنت میں داخل ہو گا۔اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ایک روایت میں اس طرح آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! سلام کو رواج دو، ضرورت مند کو کھانا کھلاؤ۔صلہ رحمی کرو اور اس وقت نماز پڑھو