خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 630
$2004 630 خطبات مسرور گھر والا اجازت نہ دے تو واپس چلے جاؤ۔ٹھیک ہے اور جگہوں پر مہمان نوازی کا بھی حکم ہے۔لیکن یہاں تمہیں یہی حکم ہے کہ گھر والا گھر کا مالک ہے۔تمہیں اگر اندر آنے کی اجازت نہیں دیتا تو واپس چلے جاؤ۔لیکن پاکیزگی یہی ہے کہ واپس ناراضگی سے نہیں جانا، برانہیں منانا بلکہ دل میں بلاکسی رنجش لانے کے اس پر عمل کرنا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا بھی حکم ہے اور اس سے ہمارے اندر محبت واخوت پیدا ہوگی۔دل میں کسی قسم کے بدلے کا خیال نہیں لانا کہ میں بھی جب مجھے موقع ملے اسی طرح کروں گا۔اس طرح تو بجائے امن کے فساد پھیلانے والے ہوں گے۔پھر یہ ہے کہ آجکل چونکہ گھروں میں گھنٹی لگی ہوتی ہے، گھنٹیوں کا رواج ہے اس لئے لوگ سمجھتے ہیں کہ سلام کی ضرورت نہیں ہے۔حالانکہ گھنٹی کے ساتھ بھی سلام کہا جا سکتا ہے۔اس میں برکت ہے اسی سے محبت بھی پیدا ہوتی ہے۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔تم اس وقت تک جنت میں داخل نہ ہو گے جب تک تم ایمان نہ لاؤ اور تم صاحب ایمان اس وقت تک نہیں ہو سکتے جب تک باہم محبت نہ کرو۔کیا میں تم کو ایک ایسا فعل نہ بتاؤں جو تم بجالاؤ تو باہم محبت کرنے لگو۔پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ یعنی آپس میں سلام کہنے کو رواج دو۔(مسلم کتاب الایمان باب بيان انه لا يدخل الجنة الا المومنون۔۔۔۔۔۔تو یہاں آپ نے فرمایا کہ جنت میں داخل ہونے کے لئے ایمان لانا ضروری ہے۔یہ ہر ایک کو پتہ ہے اور مومن کون ہے، ایمان لانے والا کون ہے۔فرمایا کہ ایمان لانے والے وہ ہیں جو آپس میں محبت و پیار سے رہتے ہیں۔ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں۔یہ نہ سمجھو کہ ہم نے بیعت کر لی، الفاظ بیعت دوہرا دیئے تو مومن بن گئے۔فرمایا کہ اگر تمہارے اندر روحانی تبدیلیاں پیدا نہیں ہوتیں، اگر تم نے ایک دوسرے کے جذبات کا خیال نہیں رکھا، اگر تم تعلیم کے تمام حصوں پر پوری طرح عمل نہیں کر رہے تو ایمان میں بہت خلا باقی ہے۔تم جماعت میں شامل تو ہو گئے