خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 625 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 625

$2004 625 خطبات مسرور کسی کام کے سلسلے میں اس کو ملنے گیا اور بڑی بداخلاقی سے پیش آیا ، بڑے بیہودہ اخلاق کا مالک ہے، کام نہیں کرنا تھا نہ کرتا لیکن کم از کم مل تو اخلاق سے لیتا وغیرہ، اس قسم کی باتیں ہوتی ہیں۔تو اس طرح کی باتیں ، اچھے اخلاق سے نہ پیش آنے والے کے بارے میں دل میں پیدا ہوتی رہتی ہیں ، جیسا کہ میں نے کہا۔پھر مختلف معاشروں کے ایک دوسرے سے ملتے وقت مختلف حرکات کے ذریعے سے اظہار کے مختلف طریقے ہیں۔کوئی سر جھکا کر اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے، کوئی رکوع کی پوزیشن میں جاکے اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے، کوئی دونوں ہاتھ جوڑ کر ، اپنے چہرے تک لے جا کر ملنے کی خوشی کا اظہار کرتا ہے۔پھر حال احوال پوچھ کے لوگ مصافحہ بھی کرتے ہیں۔لیکن اسلام نے جو ہمیں طریق سکھایا ہے، جو مومنین کی جماعت کو ، اسلامی معاشرے کے ہر فرد کو اپنے اندر رائج کرنا چاہئے وہ ہے کہ سلام کرو۔یعنی ایک دوسرے پر سلامتی کی دعا بھیجو اور پھر یہ بھی تفصیل سے بتایا کہ سلامتی کی دعا کس طرح بھیجو اور پھر دوسرا بھی جس کو سلام کیا جائے ، اسی طرح کم از کم انہیں الفاظ میں جواب دے۔بلکہ اگر بہتر الفاظ میں گنجائش ہو جواب دینے کی تو بہتر جواب دے۔اس طرح جب تم ایک دوسرے کو سلام بھیجو گے تو ایک دوسرے کے لئے کیونکہ نیک جذبات سے دعا کر رہے ہو گے اس لئے محبت اور پیار کی فضا بھی تمہارے اندر پیدا ہوگی۔پھر یہ بھی بتایا کہ اسلامی معاشرہ کیونکہ امن اور سلامتی پھیلانے والا معاشرہ ہے اس لئے یہ بھی خیال رکھو کہ جب تم کسی کے گھر ملنے جاؤ تو مختلف اوقات میں انسان کی مختلف حالتیں ہوتی ہیں، طبیعتوں کی مختلف کیفیت ہوتی ہے اس لئے جب کسی کے گھر ملنے جاؤ اور گھر والا بعض مجبوریوں کی وجہ سے تمہارے سلام کا جواب نہ دے یا تمہاری تو قعات کے مطابق تمہارے ساتھ پیش نہ آئے تو ناراض نہ ہو جایا کرو۔زود رنجی کا اظہار نہ کیا کرو بلکہ حوصلہ دکھاتے ہوئے ، خاموشی سے واپس آ جایا کرو۔اور اگر اس طرح عمل کرو گے تو ہر طرف سلامتی بکھیر نے والے اور پر امن معاشرہ قائم کرنے والے ہو گے۔