خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 56
56 $2004 خطبات مسرور نقص کو دور کرو اور اپنے والدین کی خدمت بجالاؤ۔ورنہ تم اس جنت سے محروم ہو جاؤ گے۔جو تمہارے ماں باپ کے قدموں کے نیچے رکھی گئی ہے۔( تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ ۵۹۳) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔" وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِيْنًا وَّ يَتِيْمًا وَّ أَسِيرًا﴾ (الدھر:۹) اس آیت میں مسکین سے مراد والدین بھی ہیں کیونکہ وہ بوڑھے اور ضعیف ہو کر بے دست و پا ہو جاتے ہیں اور محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالنے کے قابل نہیں رہتے۔اس وقت ان کی خدمت ایک مسکین کی خدمت کے رنگ میں ہوتی ہے اور اسی طرح اولا د جو کمزور ہوتی ہے اور کچھ نہیں کرسکتی اگر یہ اس کی تربیت اور پرورش کے سامان نہ کرتے تو وہ گویا یتیم ہی ہے۔پس ان کی خبر گیری اور پرورش کا تہیہ اس اصول پر کرے تو ثواب ہوگا۔“ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ نمبر ۵۹۹ الحکم ۱۰/ مارچ ۱۹۰۴ء) اس بات سے کوئی یہ خیال نہ کرے کہ صدقہ کے طور پر ماں باپ کی خدمت کرنی ہے بلکہ بڑھاپے کی حالت میں وہ مسکینی کے زمرے میں آتے ہیں اور کچھ کر نہیں سکتے لیکن تمہارے فرائض میں داخل ہے کہ ان کی خدمت کرو۔کیونکہ تمہاری جو حالت بچپن میں تھی وہ یتیمی کی حالت تھی۔والدین نے تمہیں یتیم سمجھ کے تو نہیں پالا پوسا بلکہ ایک محبت کے جذبے کے ساتھ تمہاری خدمت کی ہے۔آج وقت ہے کہ اسی محبت اور اسی جذبے سے تم بھی والدین کی خدمت کرو۔پھر والدین کے حق میں دعائیں بھی کرنی چاہئیں۔جس طرح باپ کی دعا بیٹے کے حق میں قبول ہوتی ہے اور جس طرح ہر قدم پر ماں باپ کی دعائیں بچوں کے کام آ رہی ہوتی ہیں۔اسی طرح بچوں کی دعائیں بھی ماں باپ کے حق میں قبولیت کا درجہ پاتی ہیں۔ملفوظات میں ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ظہر کے وقت ایک نو وارد صاحب سے ملاقات کی اور ان کو تاکید سے فرمایا کہ وہ اپنے والد کے حق میں جو سخت مخالف ہیں دعا کیا کریں انہوں نے عرض کی کہ حضور میں دعا کیا کرتا ہوں اور حضور کی خدمت میں بھی دعا کے لئے ہمیشہ لکھا