خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 592 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 592

$2004 592 مسرور تو دیکھیں ان لغویات کی وجہ سے جو اس سے سرزد ہوئی ہوں گی اس کی نماز روزہ زکوۃ وغیرہ اس کو کوئی فائدہ نہیں دے رہا۔اس لئے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہر سیڑھی پر قدم رکھنا ضروری ہے۔ورنہ انجام کا رایسے لوگوں کا یہی حال ہوتا ہے کہ ان کا ٹھکانہ پھر جہنم ہوتا ہے۔پس کسی پر بلا وجہ الزام تراشی کرنا یا کسی کا مال کھانا یا کسی بات کو معمولی سمجھنا کہ یہ ایسا گناہ نہیں ہے کوئی ایسی گناہ کی حرکت کر لینا۔فرمایا کہ اس کی سزا بھی کسی کا خون بہانے کے برابر ہے۔بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے یونہی بدظنی کرتے ہوئے الزام لگا دیتے ہیں، بغیر تحقیق کے یہ سوچ لیتے ہیں کہ فلاں نے میری شکایت کی ہوگی۔یا فلاں نے فلاں شخص کو میرے خلاف ابھارا ہے وہ تو ہے ہی ایسا اور ویسا۔تو بلا سوچے سمجھے ایسے الزام لگانا بھی ٹھیک نہیں ہے۔اگر دوسرے شخص نے تمہارے خلاف واقعی ایسی حرکت کی ہے تو اس کا گناہ اس کے سر ہے تم کیوں بہتان لگا کر، ان لغویات میں پڑ کر اپنے سر اس کا گناہ لیتے ہو۔ایک دوسرے کا مال بھی بعض لوگ ہوشیاری دکھا کے کھا جاتے ہیں۔یا درکھو کہ تم نے اس دنیا میں تو ہوشیاری دکھالی لیکن اس دن کا خیال بھی کرو کہ جب جس کا مال کھایا ہے اس کا گناہ بھی اس حدیث کے مطابق، یہ جو انذار کیا گیا ہے، اس مال کھانے والے کے سر پر ہی پڑے گا۔اس لئے اس دنیا میں بہت پھونک پھونک کے قدم رکھنے کی ضرورت ہے بلکہ ہر ہلکی سی برائی بھی بعض دفعہ خوفناک انجام تک لے جاتی ہے۔اس لئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے آگے جھکے رہنا چاہئے اس کا فضل مانگتے رہنا چاہئے۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ اس بات کو ترک کر دے جس سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔(ترمذی۔کتاب الزهد باب فيمن تكلم بكلمة يضحك بها الناس)