خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 591
$2004 591 خطبات مسرور ویسے ہی حسن سلوک کرنے کا حکم ہے۔وعدہ نہ بھی کیا ہو تو حکم ہے کہ حسن سلوک کرو۔پھر امانت میں خیانت کرنے والے ہیں کچھ عرصہ تو ایمانداری دکھا کے اپنی ایمانداری کا کسی پر رعب جما لیتے ہیں، اور اس کے بعد پھر خیانت کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں تو یہ تمام باتیں جھوٹ ہی کی قسم ہیں اور لغویات میں شمار ہوتی ہیں کیونکہ ہر وہ چیز جو شیطان کی طرف لے جانے والی ہے وہ لغو ہے۔حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : صدق فرمانبرداری کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور فرمانبرداری جنت کی طرف لے جاتی ہے۔اور ایک شخص مسلسل سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں صدیق ہو جاتا ہے اور جھوٹ نافرمانیوں کی طرف لے جاتا ہے اور نافرمانیاں دوزخ کی طرف لے جاتی ہیں اور ایک شخص مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کذاب شمار ہونے لگتا ہے۔(بخاری کتاب الادب باب قول الله تعالیٰ یا ایها الذین امنوا اتقوا الله وكونوا مع الصدقين) تو دیکھیں جھوٹ ایک ایسی لغو حرکت ہے جو جب عادت بن جائے تو ایسے شخص کا شمار اللہ کے نزدیک کذاب کے طور پر ہوتا ہے۔اور کا ذب (جھوٹا) جو ہے وہ پھر کبھی ہدایت پانے والا نہیں ہوتا۔وہ ہدایت سے دور جانے والا ہوتا ہے۔اور پھر اس کا ٹھکانہ بھی دوزخ ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے حقیقی مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز ، روزہ اور زکوۃ کے ساتھ آئے گا اور اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر بہتان لگایا ہوگا اور کسی کا مال کھایا ہو گا اور کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا۔پس اس کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی جن کے ساتھ اس نے یہ سلوک کیا ہوگا۔اگر اس کی نیکیاں اس کا حساب برابر ہونے سے قبل ختم ہو گئیں تو ان لوگوں کے جو گناہ ہیں اس ظلم کرنے کی وجہ سے اس کے سر پہ ڈال دیئے جائیں گے اور پھر اس کو آگ میں پھینک دیا جائے گا۔(مسلم کتاب البر والصلة باب تحريم الظلم