خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 590
590 $2004 خطبات مسرور ہی وارننگ دے دی ہے کہ جھوٹ جو سب برائیوں کی جڑ ہے اس سے پر ہیز کرو اس سے بچو تا کہ تمام لغویات سے بچے رہو۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں۔جب گفتگو کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے، جب اس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو خیانت سے کام لیتا ہے۔(بخاری کتاب الادب باب قول الله تعالى يا ايها الذين امنوا اتقوا الله وكونوا مع الصدقين تو یہاں مزید کھول دیا کہ جھوٹ ایسی چھوٹی برائی نہیں ہے کہ کبھی کبھی بول لیا تو کوئی حرج نہیں۔یہ ایک ایسی حرکت ہے جو منافقت کی طرف لے جانے والی ہے۔ہر کوئی اپنا جائزہ لے تو بڑی فکر کی حالت پیدا ہو جاتی ہے کہ ذرا ذراسی بات پر بعض دفعہ اپنے آپ کو بچانے کے لئے یا مذاق میں یا کوئی چیز حاصل کرنے کے لئے جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں ، غلط بیانی سے کام لے رہے ہوتے ہیں۔پھر وعدہ خلافی ہے یہ بھی جھوٹ کی ہی ایک قسم ہے۔قرض لے کر ٹال مٹول کر دیا وعدہ خلافی کرتے رہے، توفیق ہوتے ہوئے بھی واپس کرنے کی نیت کیونکہ نہیں ہوتی اس لئے ٹالتے رہے۔پھر اس کے علاوہ بھی روزمرہ کے ایسے معاملات ہیں کہ جن میں انسان اپنے وعدوں کا پاس نہیں رکھتا۔پھر میاں بیوی کے بعض جھگڑے صرف اس لئے ہور ہے ہوتے ہیں کہ بیوی کو یہ شکوہ ہوتا ہے کہ خاوند نے فلاں وعدہ کیا تھا پورا نہیں کیا۔مثلاً یہ وعدہ کر لیا کہ جب میں اپنے کام سے واپس آ جاؤں تو فلاں جگہ جائیں گے۔اس کو پورا نہیں کیا بلکہ واپس آ کے اپنے دوستوں کی مجلسوں میں گئیں مارنے کے لئے چلا گیا۔یا اس نے یہ وعدہ کیا تھا کہ آئندہ میرے ماں باپ سے حسن سلوک کرے گا یا کرے گی کیونکہ یہ عورت و مرد دونوں کی طرف سے ہوتا ہے اور پھر اس کو پورا نہیں کیا۔تو یہی چھوٹی چھوٹی وجہیں ہیں جو جھگڑوں کی بنیاد بنتی ہیں۔جہاں تک اس کا تعلق ہے، ایک دوسرے کے رشتوں کا ، ماں باپ کا خیال رکھنا، یہ تو چیز ایسی ہے کہ یہ تو رحمی رشتوں کے زمرے میں آتا ہے۔ان سے تو