خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 586 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 586

$2004 586 مسرور حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ: ” اللغو میں کل باطل، کل معاصی ، لغو میں داخل ہیں، تاش، گنجوفہ چوسرسب ممنوع ہیں۔گپیں ہانکنا، نکتہ چینیاں وغیرہ۔“ حقائق الفرقان جلد 3 صفحه (171 یعنی ہر قسم کا جھوٹ غلط اور گناہ کی باتیں تاش کھیلنا، اس قسم کی اور کھیلیں۔آجکل دکانوں پر مشینیں پڑی ہوتی ہیں چھوٹے بچوں کو جوئے کی عادت ڈالنے کے لئے ، رقم ڈالنے کے بعد بعض نمبروں کی گیمیں ہوتی ہیں کہ یہ ملا ، اتنے پیسے ڈالو تو اتنے پیسے نکل آئیں گے تو اس طرح جیتنے سے اتنی بڑی رقم حاصل ہو جائے گی ، یہ سب لغو چیزیں ہیں۔اسی طرح بیٹھ کر مجلسیں جمانا، گپیں ہانکنا، پھر دوسروں پر بیٹھ کے اعتراض وغیرہ کرنا یہ سب ایسی باتیں ہیں جو لغویات میں شامل ہیں۔وَالَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ﴾ کی وضاحت میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” دوسرا کام مومن کا یعنی وہ کام جس سے دوسرے مرتبہ تک قوت ایمانی پہنچتی ہے اور پہلے کی نسبت ایمان کچھ قوی ہو جاتا ہے، عقلِ سلیم کے نزدیک یہ ہے کہ مومن اپنے دل کو جو خشوع کے مرتبہ تک پہنچ چکا ہے لغو خیالات اور لغو شغلوں سے پاک کرے۔کیونکہ جب تک مومن میدادنی قوت حاصل نہ کر لے کہ خدا کے لئے لغو باتوں اور لغو کاموں کو ترک کر سکے جو کچھ بھی مشکل نہیں اور صرف گناہ بے لذت ہے اس وقت تک یہ طمع خام ہے کہ مومن ایسے کاموں سے دستبردار ہو سکے جن سے دستبردار ہونا نفس پر بہت بھاری ہے اور جن کے ارتکاب میں نفس کو کوئی فائدہ یا لذت ہے۔پس اس سے ثابت ہے کہ پہلے درجے کے بعد کہ ترک تکبر ہے ( یعنی پہلا درجہ ترک تکبر ہے عاجزی دکھانا ) دوسرا درجہ ترک لغویات ہے۔اور اس درجہ پر وعدہ جو لفظ افلح سے کیا گیا ہے یعنی فوز مرام اس طرح پر پورا ہوتا ہے کہ مومن کا تعلق جب لغو کاموں اور لغوشغلوں سے ٹوٹ جاتا ہے تو ایک خفیف سا تعلق خدا تعالیٰ سے اس کو ہو جاتا ہے اور قوت ایمانی بھی پہلے سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔اور خفیف تعلق اس لئے ہم نے کہا کہ لغویات سے تعلق بھی خفیف ہی ہوتا ہے (جیسا کہ