خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 585 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 585

$2004 585 خطبات مسرور ہوتی ہیں۔بلکہ بعض دفعہ خود بھی ان لغویات میں شامل ہورہی ہوتی ہیں تو اسی طرح ماں باپ ، دوست احباب اس وقت تک کچھ توجہ نہیں دیتے جب تک پانی سر سے اونچا نہیں ہو جا تا۔نظام جماعت کو بھی پتہ نہیں لگ رہا ہوتا جب تک کسی دوست یا عزیز رشتہ دار کی طرف سے یہ نہ پتہ چل جائے کہ لغویات میں مبتلا ہے۔بظاہر ایک شخص مسجد میں بھی آ رہا ہوتا ہے اور جماعتی خدمات بھی بجالا رہا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بعض قسم کی غلط حرکتوں میں لغویات میں بھی مبتلا ہوتا ہے اس لئے یہ نہایت اہم مضمون ہے جس پر کچھ کہنا ضروری ہے۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ بعض لوگ بعض باتیں اور حرکتیں ایسی کر رہے ہوتے ہیں جوان کے نزدیک کوئی برائی نہیں ہوتی حالانکہ وہ لغویات میں شمار ہورہی ہوتی ہیں اور نیکیوں سے جانے والی ہوتی ہیں۔اور بعض دفعہ جائز بات بھی غلط موقع پرلغو ہو جاتی ہے۔سے دور اب میں بعض تفسیر میں بیان کرتا ہوں۔علامہ فخر الدین رازی وَالَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُون کی تفسیر کے تحت لکھتے ہیں کہ اس بارے میں متعد دا قوال ہیں۔بہت سے لوگوں نے کہا ہے۔ایک یہ کہ اللغو میں تمام حرام اور تمام مکر وہ شامل ہیں۔دوسرے یہ کہ اللغو سے مراد صرف ہر حرام ہے۔تیسرے یہ کہ اللغو کا لفظ خصوصی طور پر قول و کلام میں معصیت پر دلالت کرتا ہے۔پھر یہ کہ اللغو سے مراد وہ حلال ہے جس کی حاجت نہیں۔( تفسیر کبیر رازی صفحه ۷۹ جلد ۲۳) تو مختلف مفسرین نے جو اس کے مختلف معنی کئے ہیں یعنی حرام چیزیں لغویات میں شامل ہیں ، ایک تو اس کی یہ تفسیر ہوگئی جو بڑی واضح ہے۔مکروہ چیزیں لغویات میں شامل ہیں۔پھر ایک نے یہ لکھا ہے کہ لغو کا لفظ خاص طور پر بات چیت میں غلط اور گناہ کی باتیں کرنے کو کہتے ہیں۔اور ایک معنی یہ ہیں کہ ایسا جائز یا حلال کام بھی جس کی کسی مومن کو ضرورت نہیں ہے وہ بھی اگر وہ کرتا ہے تو وہ بھی لغویات میں شمار ہوتا ہے۔تو دیکھیں لغویات سے بچنے کے لئے کس قدر باریکی میں جا کر لوگوں نے اس کے معنے نکالے ہیں۔