خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 584 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 584

$2004 584 خطبات مسرور کے لئے تمام نیکیاں بجالا نا ضروری ہے۔اس لئے کسی ایک نیکی کو بھی کسی صورت میں بھی کم نہ سمجھو۔کیونکہ آخری منزل پر پہنچنے تک ہر وقت یہ خطرہ ہے۔جب تک تم آخری منزل تک پہنچ نہیں جاتے یہ خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے کہ کسی ایک قدم پر کسی ایک سیڑھی پر سے بھی تمہارا پاؤں کہیں پھسل نہ جائے۔اگر پاؤں پھسلا تو تم پھر اپنی پہلی حالت میں واپس آ جاؤ گے۔اس لئے وہی مومن فلاح پانے والے ہوں گے جو ہر سیڑھی پر پاؤں رکھتے ہوئے اپنے مقصد حیات کو حاصل کر کے اللہ تعالیٰ کی جنتوں تک پہنچ جائیں گے اور جب وہاں پہنچ جائیں گے تو فرمایا پھر فکر کی کوئی بات نہیں ہے تم اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو کیونکہ اب تمہاری اس محنت کی قدر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ بھی تمہاری حفاظت کرے گا۔ان آیات میں بیان کیا گیا نیکیوں کو حاصل کرنے کا ہر درجہ کیونکہ ایک تفصیل چاہتا ہے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس کی بڑی تفصیل سے تفسیر بیان فرمائی ہے۔ساروں کی تفصیل تو بیان نہیں ہوسکتی، اس وقت میں نسبتاً ذرا تفصیل سے اس سیڑھی کے دوسرے درجے یعنی ﴿وَالَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُون کے بارے میں کچھ کہوں گا۔لغو باتوں اور لغوحرکتوں اور لغویات میں ڈوبنے کی یہ بیماری آجکل کچھ زیادہ جڑ پکڑ رہی ہے۔اور اسی وجہ سے یہ بیماری تقویٰ میں بھی روک بنتی ہے۔اور اس طرح غیر محسوس طور پر اس کا حملہ ہو رہا ہے کہ اس بیماری کی گرفت میں آنے کے بعد بھی انسان کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ کس بیماری میں گرفتار ہے اور کیونکہ پورا معاشرہ ہر جگہ اور ہر علاقے میں ہر ملک میں اس بیماری میں مبتلا ہے اس لئے اس بیماری کے پیٹ میں آ کر بھی پتہ نہیں لگتا کہ ہم اس بیماری میں گرفتار ہیں۔بعض قریبی عزیزوں کو بھی اس وقت پتہ چلتا ہے جب ان لغویات کی وجہ سے ان کے حقوق متاثر ہورہے ہوتے ہیں۔بیویاں بھی اس وقت شور مچاتی ہیں جب ان کے اور ان کے بچوں کے حقوق مارے جارہے ہوں۔اس سے پہلے وہ بھی معاشرے کی روشنی کا نام دے کر اپنے خاوندوں کی ہاں میں ہاں ملا رہی