خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 579 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 579

$2004 579 خطبات مسرور نفس کی مخالفت کرنی پڑتی ہے مثلاً کسی کا قرضہ ادا کرنا ہے لیکن نفس اس میں یہی خواہش کرتا ہے کہ کسی طرح سے اس کو دبالوں اور اتفاق سے اس کی میعاد بھی گزر جاوے۔اس صورت میں نفس اور بھی دلیر اور بے باک ہو گا کہ اب تو قانونی طور پر بھی کوئی مواخذہ نہیں ہوسکتا۔مگر یہ ٹھیک نہیں، عدل کا تقاضا یہی ہے کہ اس کا دین واجب ادا کیا جاوے اور کسی حیلے سے اور عذر سے اس کو دبایا نہ جاوے۔( فرمایا) مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض لوگ ان امور کی پرواہ نہیں کرتے اور ہماری جماعت میں بھی ایسے لوگ ہیں جو بہت کم توجہ کرتے ہیں اپنے قرضوں کے ادا کرنے میں۔یہ عدل کے خلاف ہے۔آنحضرت ﷺ تو ایسے لوگوں کی نماز نہ پڑھتے تھے۔پس تم میں سے ہر ایک اس بات کو خوب یادر کھے کہ قرضوں کے ادا کرنے میں سستی نہیں کرنی چاہئے اور ہر قسم کی خیانت اور بے ایمانی سے دور بھاگنا چاہئے کیونکہ یہ امرالہی کے خلاف ہے“۔(ملفوظات جلد 4 صفحه 607 ، الحكم 24 جنوری (1906 آپ کا اپنا نمونہ کیا تھا۔ایک پیش کرتا ہوں۔ایک دفعہ آپ نے حضرت نواب محمد علی خان صاحب سے پانچ سو روپے قرض لیا تو اس کے بعد آپ نے ان کو خط لکھا اس میں لکھا کہ باعث تکلیف دہی یہ ہے کہ کیونکہ اس عاجز نے پانچ سوروپے آں محب کا قرض دینا ہے، مجھے یاد نہیں کہ میعاد میں سے کیا باقی رہ گیا ہے اور قرضے کا ایک نازک اور خطرناک معاملہ ہوتا ہے۔میرا حافظہ اچھا نہیں۔یاد پڑتا ہے کہ پانچ برس میں ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔اور کتنے برس گزر گئے ہوں گے۔عمر کا کچھ اعتبار نہیں۔آپ براہ مہربانی اطلاع بخشیں کہ کس قدر میعاد باقی رہ گئی ہے تا حتی الوسع اس کا فکر رکھ کر بتو فیق باری تعالیٰ میعاد کے اندراندرادا ہو سکے اور اگر ایک دفعہ نہ ہو سکے تو کئی دفعہ کر کے میعاد کے اندر بھیج دوں ( یعنی قسطیں مقرر کر دوں)۔امید ہے کہ جلد اس سے مطلع فرمائیں گے تا میں اس فکر میں لگ جاؤں کیونکہ قرضہ بھی دنیا کی بلاؤں میں سے ایک سخت بلا ہے۔اور راحت اسی میں ہے کہ اس سے سبکدوشی ہو جائے“۔(حضرت حجة الله نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹله اصحاب احمد حصه دوم مرتبه ملك صلاح الدین صاحب ایم اے، صفحه 762 تا 764) اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے احکامات پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے ہر کام میں وہ