خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 580 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 580

خطبات مسرور 580 $2004 اعلیٰ نمونے قائم ہوں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے جن کی ہمیں تلقین فرمائی ہے۔قرضوں کی لین دین کی شرائط ان احکامات کے مطابق کرنے والے ہوں اور قرضوں کی واپسی کا تقاضا بھی ہم تقویٰ کی راہوں پر چلتے ہوئے کرنے والے ہوں۔اور قرضوں کے حصول کی کوشش بھی صرف اس وقت ہو جب اشد مجبوری ہو۔اور پھر ان قرضوں کی ادائیگی کی بھی فکر ہو۔اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑاتے ہوئے ان قرضوں سے نجات حاصل کرنے کیلئے جھکنے والے ہوں۔ان معاشرے کے بہت سے فساد اسی لین دین کی وجہ سے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سب کو ان سے بچائے۔اور جماعت احمدیہ کے معاشرے کو ان بکھیڑوں سے پاک رکھے۔جب اللہ تعالیٰ کے حضور جھکیں گے اور کوشش بھی یہ ہوگی کہ قرضے ادا کرنے ہیں اور ان کی فکر کرو گے تو اللہ تعالیٰ خود ہی سامان بھی اپنے فضل سے پیدا فرما دیا کرتا ہے۔ایک نسل حضرت طلیقہ انہی الاول کی روایت میں ملتا ہے کسی شخص نے آپ سے کہا کہ 25 ہزار روپے کا مقروض ہو گیا ہوں تو آپ نے فرمایا اس کے تین علاج ہیں ( بہت زیادہ ) (۱) استغفار کرو، (۲) فضول خرچی چھوڑ دو۔( سارے اپنا اپنا جائزہ لیں تو یہی باتیں سامنے آتی ہیں) اور (۳) ایک پیسہ بھی ملے تو قرض خواہ کو دے دو۔(حیات نور صفحه ٥١٧ ، مرتبه مولانا عبدالقادر صاحب سابق سوداگر مل یعنی یہ نہیں کہ پوری رقم ملے گی کہیں سے تو قرض ادا ہوگا بلکہ جتنی کم سے کم بھی رقم ملتی ہے کوشش یہ کرو کہ قرض ادا کرنا ہے اور اس کی ادائیگی کرتے چلے جاؤ۔تو جو بھی مقروض ہیں وہ یہ نسخہ بھی آزمائیں۔بہت سوں نے اس کو آزمایا ہے، کئی روایتیں ہیں، بڑا فائدہ اٹھایا ہے۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو قرضے کی مشکلات سے نکالے اور اپنی رضا کی راہوں پر ہمیں چلائے۔(آمین)