خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 577
$2004 577 خطبات مسرور ان کو پہلے ہوش کرنی چاہئے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے ”جس شخص نے لوگوں سے واپس کرنے کی نیت سے مال ( قرض پر لیا اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے ادا ئیگی کرا دے گا۔اور جو شخص مال کھا جانے اور تلف کر جانے کی نیت سے لے گا اللہ تعالیٰ اسے تلف کر دے گا۔(بخاری کتاب الاستقراض واداء الديون ـ باب من اخذ اموال الناس يريد اداءها واتلافها) تو نیت نیک ہونی چاہئے اللہ تعالیٰ بھی مدد فرماتا ہے اور اگر بری نیت ہوگی تو اس میں برکت بھی نہیں ہوگی۔پس نیتوں کو صاف رکھنا چاہئے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ بعض لوگ صرف قرض اس لئے لے لیتے ہیں کہ چلو سہولت میسر آ گئی ہے، کہیں سے لے لو واپس تو کرنا نہیں تو ایسے لوگ نہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے حصہ نہیں لیتے بلکہ آپ نے فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے مور د ٹھہرتے ہیں۔آنحضرت معہ تو مقروض کے بارے میں اس قدر احتیاط کرتے تھے کہ آپ جنازہ بھی نہیں پڑھایا کرتے تھے۔حضرت سلمیٰ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک جنازہ لایا گیا اور نماز جنازہ پڑھنے کی درخواست کی گئی آپ نے پوچھا اس کے ذمہ قرض ادا کرنا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں ( پھر ) پوچھا کیا اس نے کچھ ترکہ چھوڑا ہے؟ جواب دیا گیا کہ نہیں۔آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔پھر ایک اور جنازہ لایا گیا، صحابہ نے درخواست کی یا رسول اللہ ! اس کی نماز جنازہ پڑھیں آپ نے پوچھا کیا اس کے ذمے قرض ادا کرنا ہے؟ عرض کیا گیا ہاں ! ( پھر ) پوچھا کیا کوئی چیز اس نے ترکے میں چھوڑی ہے؟ عرض کیا تین دینار، آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی۔پھر تیسرا جنازہ لایا گیا صحابہ نے عرض کیا حضور اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں آپ نے فرمایا کیا اس نے کوئی چیز ( ترکہ میں ) چھوڑی ہے۔صحابہ نے کہا نہیں، پھر دریافت کیا کیا اس کے ذمے کوئی قرض ہے، صحابہ نے