خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 576
$2004 576 خطبات مسرور کرنے میں ) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اگر تم میں سے کسی کو ٹال مٹول کرنے والے کا پیچھا کرنے کو کہا جائے تو چاہئے کہ وہ (اس ٹال مٹول کرنے والے کا ) پیچھا کرئے“۔(بخارى كتاب الحوالة باب الحوالات وهل يرجع في الحوالة یعنی اس کو مجبور کر کے اس کو قرض واپس دلوائے۔تو بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ قرض لے لیا اور واپس نہیں کرتے۔بینکوں سے لے لیتے ہیں اور نیت یہی ہوتی ہے کہ بہت ہی کوئی پیچھے پڑے گا تو واپس کریں گے ورنہ نہیں کریں گے۔پاکستان وغیرہ اور ایسے ملکوں میں بڑے بڑے لوگ یہی کرتے ہیں قرض لے لیتے ہیں اور پھر سالوں ان کے پیچھے بینک پھرتے رہتے ہیں پھر جب کبھی زور چلا تو مل ملا کے معاف کروالیا۔اگر ایسے لوگوں کو کوئی کہے کہ صدقہ لے لو تو بڑا برا منائیں گے کہ ہمیں کہہ رہے ہو، اتنے امیر آدمی کو صدقہ لے لو لیکن قرض جو اس طرح مارنے والے ہیں وہ صدقہ کھانے والے ہی ہیں یا قرض لینا بھی ایک قسم کا صدقہ ہی ہے، اس کو ہضم کر جاتے ہیں اور کوئی فکر نہیں ہوتی ، بہر حال جماعت میں بھی بعض اوقات بعض واقعات ایسے ہو جاتے ہیں اور پھر نظام جماعت ان کو حق دلوانے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ہمیں چاہئے کہ سارے احتیاط سے کام لیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ” قرض ادا کر سکنے والے کا ٹال مٹول کرنا ( یعنی جس کو توفیق ہو کہ قرض ادا کر سکے اس کا پھر ٹال مٹول کرنا ) اس کی آبرو اور اس کی سزا کو حلال کر دیتا ہے۔(ابوداؤد كتاب الحوالات باب الحوالة ) تو ایسے لوگوں کے خلاف جماعت کے اندر جب نظام جماعت حرکت میں آتا ہے تو کہتے ہیں کہ دیکھو یہ ہماری خاندانی عزت سے کھیلا گیا۔فلاں عہد یدار نے ہماری بے عزتی کی یا قضا نے ہمیں غلط سزادی۔تو ایسے لوگ جو صاحب استطاعت ہوں، استطاعت رکھتے ہوں اور پھر تعاون نہ کریں تو اس حدیث کی رو سے ان سے ایسا سلوک جائز ہے۔اگر ان کی بے عزتی بھی ہو جائے تو کوئی حرج نہیں اور جب نظام جماعت ایسا سلوک کرتا ہے تو ان کو پھر شور مچانے کا بھی کوئی حق نہیں