خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 575
$2004 575 مسرور ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے ( قرض کی واپسی کا ) تقاضا کیا اور شدت سے کام صلى الله لیا بختی سے بات کی تو صحابہ نے اس کو مارنا چاہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو صاحب حق ہے۔(یعنی جس نے قرض لینا ہو ) اس کو کہنے کا حق ہے پھر فرمایا اس کے اونٹ کی مانند اس کو اونٹ دے دو تو صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ ! اس کے اونٹ سے بہتر اونٹ ہے ( ویسا نہیں بلکہ اس سے بہتر ہیں ) تو آپ نے فرمایا اس کو وہی دے دو تم میں سے بہتر وہ ہے جو ( قرض کی ادائیگی میں بہترین انداز اپناتا ہے۔(بخاری کتاب الوكالة باب الوكالة في قضاء الديون) تو قرض لینے والے بھی یادرکھیں کہ جب قرض لیں تو اس نیت سے لیں کہ ایک تو جلد واپس کرنا ہے اور جب واپس کرنا ہے تو احسن طریق پر کوشش کر کے، اگر بڑھا کے واپس کرنا ہے تو یہ سب سے اچھا طریقہ ہے۔اور یہ بڑھا کر واپس دینا سود نہیں ہے بلکہ یہ احسان ہے۔وہ شکریہ کے جذبات ہیں کہ ضرورت کے وقت کوئی شخص آپ کے کام آیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ شرع میں سود کی یہ تعریف ہے کہ ایک شخص اپنے فائدے کے لئے دوسرے کو روپیہ قرض دیتا ہے اور فائدہ مقرر کرتا ہے۔یہ تعریف جہاں صادق آوے گی وہ سود کہلاوے گا لیکن جس نے روپیہ لیا ہے اگر وہ وعدہ وعید تو کچھ نہیں کرتا اور اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے اور دینے والا اس نیت سے نہیں دیتا کہ سود ہے تو وہ سود میں داخل نہیں ہے، وہ بادشاہ کی طرف سے احسان ہے۔پیغمبر خدا نے کسی سے ایسا قرضہ نہیں لیا کہ ادائیگی کے وقت اسے کچھ نہ کچھ ضرور زیادہ (نہ) دے دیا ہو۔یہ خیال رہنا چاہئے کہ اپنی خواہش نہ ہو خواہش کے برخلاف جو زیادہ ملے وہ سود میں داخل نہیں ہے“۔( ملفوظات جلد 3 صفحه 166-167ـ البدر ۲۷ مارچ ۱۹۰۳ء) الله پھر ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت علیہ نے فرمایا کہ دولت مند کا ( قرض ادا