خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 572
خطبات مسرور 572 $2004 گے تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ بھی تم پر نظر رکھے ہوئے ہے۔اس کے بہت سارے تم پر احسانات ہیں۔تمہاری ضروریات پوری کر رہا ہے۔یہ بھی اگر اس طرح حساب لینا شروع کر دے تو پھر تو تم مشکل اور مصیبت میں پڑ جاؤ گے۔اس لئے ہمیشہ نرمی کا سلوک کرو۔ایک حدیث میں آتا ہے " آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی سے قرض کی رقم لینی ہو اور وہ اس کو مقررہ میعاد گزرنے کے بعد بھی مہلت دیتا ہے تو ہر وہ دن جو مہلت کا گزرتا ہے وہ اس کے لئے صدقہ ہوگا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 4 صفحه 442مطبوعه بيروت) تو یہ اس قرآنی حکم کی مزید تشریح ہوگئی کہ تمہاری یہ مہلت تمہاری یہ سہولت جو تم نے اپنے مقروض بھائی کے لئے مہیا کی ہے تمہارے ثواب میں اضافہ کا باعث بن رہی ہے۔ایک تو قرض کا ثواب کما رہے ہو، دوسرے صدقے کا ثواب کمارہے ہو۔کیونکہ قرض دینے کا بھی ثواب ہے اور صدقے سے زیادہ کا ثواب ہے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت علﷺ نے فرمایا کہ اسراء والی رات میں نے جنت کے دروازے پر لکھا ہوا دیکھا کہ صدقے کی جزا دس گنا ہوگی اور قرض دینے کی جزا اٹھارہ گنا ملے گی۔میں نے پوچھا اے جبرائیل ! قرض صدقہ سے افضل کیوں ہے؟ ( تو جبرائیل نے ) جواب دیا کہ سائل اس حال میں سوال کرتا ہے کہ اس کے پاس کچھ ہوتا ہے جبکہ قرض لینے والا صرف ضرورت کے وقت ہی قرض مانگتا ہے“۔(سنن ابن ماجه کتاب الاحکام باب القرض )۔تو اس میں قرض لینے والوں کے لئے بھی ایک سبق ہے، نصیحت ہے کہ سوائے اشد مجبوری کے قرض نہ مانگیں ورنہ ان کا شمار بھی صدقہ کھانے والوں میں ہوگا۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ جو شخص چاہتا ہے کہ اس کی دعا قبول ہو اور اس کی تکلیف دور ہو جائے تو اسے چاہئے کہ وہ تنگدست مقروض کو سہولت دے“۔(مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحه 23 مطبوعه (بیروت)