خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 52
$2004 52 خطبات مسرور ایک پلو بچھا دیا۔پھر آپ کی رضاعی ماں آئیں تو آپ نے دوسرا پلو بچھا دیا۔پھر آپ کے رضاعی بھائی آئے تو آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کو اپنے سامنے بٹھا لیا۔(سنن ابوداؤد کتاب الادب با ب برالوالدین۔پوری کی پوری چادر اپنے رضاعی رشتہ داروں کے لئے دے دی اور آپ ایک طرف ہوکر بیٹھ گئے۔تو یہ عزت اور احترام اور تکریم ہے جس کا نمونہ آپ ﷺ نے پیش فرمایا۔نہ صرف یہ کہ رضاعی والدین کا احترام فرما رہے ہیں بلکہ جب رضاعی بھائی آتا ہے تو اس کے لئے بھی خاص اہتمام سے جگہ خالی کر رہے ہیں۔اور یہ تمام عزت و احترام اس لئے ہے کہ آپ نے جس عورت کا کچھ عرصہ دودھ پیا تھا دوسرے لوگ بھی اس کی طرف منسوب ہیں، اس کے عزیز ہیں۔آج کل تو بعض جگہ دیکھا گیا ہے کہ قریبی عزیز بھی آجائیں تو بچے اگر کرسیوں پر بیٹھے ہیں تو بیٹھے رہتے ہیں، کوئی جگہ خالی نہیں کرتا۔اور ان بچوں کے بڑے بھی یہ نہیں کہتے کہ اٹھو بچو، بڑے آئے ہیں ان کے لئے جگہ خالی کر دو۔تو یہ مثالیں صرف قصے کہانیوں کے لئے نہیں دی جاتیں بلکہ اس لئے ہوتی ہیں کہ ان پر عمل کیا جائے۔یہ حسین تعلیم ہمارے لئے عمل کرنے کے لئے ہے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہمٹی میں ملے اس کی ناک مٹی میں ملے اس کی ناک ( یہ الفاظ آپ نے تین دفعہ دہرائے ) لوگوں نے عرض کیا کہ حضور کون؟ آپ نے فرمایا وہ شخص جس نے اپنے بوڑھے ماں باپ کو پایا اور پھر ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہوسکا۔(مسلم۔کتاب البر والصلةـ باب رغم انف من ادرك ابويه) تو یہ دیکھیں کس قدر ڈرایا گیا ہے، آپ نے کس طرح بیزاری کا اظہار فرمایا ہے بلکہ ایک طرح سے لعنت ہی ڈالی گئی ہے ایسے شخص پر کہ جنت میں جانے کے مواقع ملنے کے باوجودان سے فائدہ نہیں اٹھایا کہ تم پر پھٹکار ہو خدا کی۔اللہ تعالیٰ تمام ایسے بگڑے ہوؤں کو جو اپنے ماں باپ سے بدسلوکی کرتے ہیں راہ راست پر لائے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنے ماں باپ سے اس