خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 562
$2004 562 خطبات مسرور کے فضل اور حمایت کی قدر کرو۔قاعدہ ہے کہ کامیابی پر ہمت اور حو صلے میں ایک نئی زندگی آ جاتی ہے اس زندگی سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی معرفت میں ترقی کرنی چاہئے۔کیونکہ سب سے اعلیٰ درجے کی بات جو کام آنے والی ہے وہ یہی معرفت الہی ہے۔اور یہ خدا تعالیٰ کے فضل وکرم پر غور کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل کو کوئی روک نہیں سکتا۔فرمایا: " غرض اگر اس پر ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کام پڑنا ہے تو تقویٰ کا طریق اختیار کرو۔مبارک وہ ہے جو کامیابی اور خوشی کے وقت تقویٰ اختیار کرے اور بدقسمت وہ ہے جو ٹھو کر کھا کر اس کی طرف نہ جھکئے“۔(ملفوظات جلد اول صفحه 98-99 الحكم ٢٤ جون ١٩٠١ء) پھر آپ فرماتے ہیں : ” تمہارا اصل شکر تقویٰ اور طہارت ہی ہے۔مسلمان کا پوچھنے پر الحمد للہ کہ دینا سچا سپاس اور شکر نہیں ہے اگر تم نے حقیقی سپاس گزاری یعنی طہارت و تقویٰ کی راہیں اختیار کرلیں تو میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ تم سرحد پر کھڑے ہو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا“۔(ملفوظات جلد اول صفحه 49 رپورٹ جلسه سالانه ۱۸۹۷ء) اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ شکر گزار بندہ بنائے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی نصائح پر عمل کرنے والا بنائے۔تقویٰ کی راہوں پر چلتے ہوئے چھوٹی سے چھوٹی نعمت سے لے کر بڑی بڑی نعمتوں کے ملنے پر ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے والے بنیں۔اس کے شکر گزار ہیں۔ہمیشہ عبد شکور بنے رہیں اور نظام خلافت اور نظام جماعت کے لئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہیں۔اور اس کے لئے قربانیاں بھی دیتے چلے جائیں اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔