خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 561
561 $2004 خطبات مسرور ہوتا ہے ) لیکن اس خارش کا آخری نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ یہی کہ خون نکل آتا ہے۔پس ان دنیوی اور عارضی کا میابیوں پر اس قدر خوش مت ہو کہ حقیقی کامیابی سے دور چلے جاؤ بلکہ ان کا میابیوں کو۔خداشناسی کا ایک ایک ذریعہ قرار دو، اپنی ہمت اور کوشش پر نازمت کرو اور مت سمجھو کہ ہماری کامیابی کسی قابلیت اور محنت کا نتیجہ ہے بلکہ یہ سوچو کہ اس رحیم خدا نے جو بھی کسی کی کچی محنت کو ضائع نہیں کرتا ہے ہماری محنت کو بارور کیا۔۔پھر فرمایا: ” اس لئے واجب اور ضروری ہے کہ ہر کامیابی پر مومن خدا کے حضور سجدات شکر بجالائے کہ اس نے محنت کوا کارت تو نہیں جانے دیا۔اس شکر کا نتیجہ یہ ہوگا کہ خدا تعالیٰ سے محبت بڑھے گی اور ایمان میں ترقی ہوگی اور نہ صرف یہی بلکہ اور بھی کامیابیاں ملیں گی۔کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم میری نعمتوں کا شکر کرو گے تو البتہ میں نعمتوں کو زیادہ کروں گا۔اور اگر کفران نعمت کرو گے تو یاد رکھو کہ عذاب سخت میں گرفتار ہو گے۔اس اصول کو ہمیشہ مدنظر رکھو۔مومن کا کام یہ ہے کسی کامیابی پر جو اسے دی جاتی ہے شرمندہ ہوتا ہے اور خدا کی حمد کرتا ہے کہ اس نے اپنا فضل کیا اور اس طرح پر وہ قدم آگے رکھتا ہے اور ہر ابتلاء میں وہ ثابت قدم رہ کر ایمان پاتا ہے۔بظاہر ایک ہندو اور ایک مومن کی کامیابی ایک رنگ میں مشابہ ہوتی ہے لیکن یا درکھو کہ کا فر کی کامیابی ضلالت کی راہ ہے اور مومن کی کامیابی سے اس کے لئے نعمتوں کا دروازہ کھلتا ہے۔کافر کی کامیابی اس لئے ضلالت کی طرف لے جاتی ہے کہ وہ خدا کی طرف رجوع نہیں کرتا بلکہ اپنی نعمت، دانش اور قابلیت کو خدا بنا لیتا ہے۔مگر مومن خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کر کے خدا سے ایک نیا تعارف پیدا کرتا ہے اور اس طرح پر ہر ایک کامیابی کے بعد اس کا خدا سے ایک نیا معاملہ شروع ہو جاتا ہے۔اور اس میں تبدیلی ہونے لگتی ہے۔اکثر لوگوں کے حالات کتابوں میں لکھے ہیں کہ اوائل میں دنیا سے تعلق رکھتے تھے اور شدید تعلق رکھتے تھے لیکن انہوں نے کوئی دعا کی اور وہ قبول ہوگئی اس کے بعد ان کی حالت ہی بدل گئی اس لئے اپنی دعاؤں کی قبولیت اور کامیابیوں پر نازاں نہ ہو بلکہ خدا