خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 560
$2004 560 خطبات مسرور تعلق ہے اور ضروری نہیں کہ ضروریات کے تحت پہلے خلفاء جس طرح تحریکات کرتے رہے ہیں، آئندہ بھی اسی طرح مالی تحریکات ہوتی رہیں بلکہ نظام وصیت کو اب اتنا فعال ہو جانا چاہئے کہ سوسال بعد تقویٰ کے معیار بجائے گرنے کے نہ صرف قائم رہیں بلکہ بڑھیں اور اپنے اندر روحانی تبدیلیاں پیدا کرنے والے بھی پیدا ہوتے رہیں اور قربانیاں پیدا کرنے والے بھی پیدا ہوتے رہیں۔یعنی ا حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے والے پیدا ہوتے رہیں۔اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے پیدا ہوتے رہیں۔جب اس طرح کے معیار قائم ہوں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ خلافت حقہ بھی قائم رہے گی اور جماعتی ضروریات بھی پوری ہوتی رہیں گی۔کیونکہ متقیوں کی جماعت کے ساتھ ہی خلافت کا ایک بہت بڑا تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ جماعت کو اس کی توفیق دے اور ہمیشہ خلافت کی نعمت کا شکر ادا کرنے والے پیدا ہوتے رہیں اور کوئی احمدی بھی ناشکری کرنے والا نہ ہو۔کبھی دنیا داری میں اتنے محو نہ ہو جائیں کہ دین کو بھلا دیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ”سعید آدمی ناکامی کے بعد کامیاب ہو کر اور بھی سعید ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ پر ایمان بڑھ جاتا ہے ( یعنی جب ٹھوکر لگتی ہے تو اور بھی سعادت پیدا ہوتی ہے ) اس کو ایک مزا آتا ہے جب وہ غور کرتا ہے کہ میرا خدا کیسا ہے اور دنیا کی کامیابی خداشناسی کا ایک بہانہ ہو جاتا ہے۔ایسے آدمیوں کے لئے یہ دنیوی کامیابیاں حقیقی کامیابی کا ( جس کو اسلام کی اصطلاح میں فلاح کہتے ہیں) ایک ذریعہ ہو جاتی ہیں۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ سچی راحت دنیا اور دنیا کی چیزوں میں ہرگز نہیں ہے۔حقیقت یہی ہے کہ دنیا کے تمام شعبے دیکھ کر بھی انسان سچا اور دائمی سرور حاصل نہیں کر سکتا تم دیکھتے ہو کہ دولتمند زیادہ مال و دولت رکھنے والے ہر وقت خنداں رہتے ہیں۔(فرمایا کہ ) مگر ان کی حالت جرب یعنی خارش کے مریض کی سی ہوتی ہے جس کو کھجلانے سے راحت ملتی ہے۔کھجلی کا مریض جب کھجلی کرتا ہے تو اس کو بڑا مزا آ رہا