خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 555 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 555

$2004 555 مسرور پھر آپ فرماتے ہیں کہ: فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوْالِيْ وَلَا تَكْفُرُونِ (بقره: 153) یعنی اے میرے بندے ! تم مجھے یاد کیا کرو اور میری یاد میں مصروف رہا کرو میں بھی تم کو نہ بھولوں گا تمہارا خیال رکھوں گا اور میرا شکر کیا کرو اور میرے انعامات کی قدر کیا کرو اور کفر نہ کیا کرو“۔(ملفوظات جلد 3 صفحه 189 البدر 3 اپریل 1903) پس یہ شکر جس کا آخری سرا ہمیں اللہ تعالی تک پہنچاتا ہے یہی ہر احدی کا مطمح نظر ہونا چاہئے یہی ہے جس کو حاصل کرنا ہر احمدی کا مقصد ہونا چاہئے۔پس ہم میں سے ہر ایک کوشش کرے کہ ان مقاصد کو حاصل کرنے والا ہو۔پھر آپ فرماتے ہیں: ﴿ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَا زِيْدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ﴾ (ابراہیم : 8) - کہ اگر تم میرا شکر ادا کرو تو میں اپنے احسانات کو اور بھی زیادہ کرتا ہوں اگر تم کفر کرو تو میرا اعذاب بھی بڑا سخت ہے۔یعنی جب انسان پر خدا تعالیٰ کے احسانات ہوں تو اس کو چاہئے کہ وہ اس کا شکر ادا کرے اور انسانوں کی بہتری کا خیال رکھے اور اگر کوئی ایسا نہ کرے اور الٹا ظلم شروع کر دے تو پھر خدا تعالیٰ اس سے وہ نعمتیں چھین لیتا ہے اور عذاب کرتا ہے۔چاہئے کہ نرمی اور پیار سے کام کیا جائے اور چاہئے کہ جو شخص کسی ذمہ داری کے عہدے پر مقرر ہو وہ لوگوں سے خواہ امیر ہوں یا غریب نرمی اور اخلاق سے پیش آئے کیونکہ اس میں نہ صرف ان لوگوں کی بہتری ہے بلکہ خود اس کی بھی بہتری ہے“۔(ملفوظات جلد 5 صفحه 533 تشحيذ الاذهان اپریل ۱۹۰۸ء بدر ۲۳ اپریل ۱۹۰۸ء پس کام کرنے والے بھی اور عام احمدی بھی شکر گزار ہونے کی صفت کو اپنانے والے اور اس کے مطابق عمل کرنے والے، اپنی زندگیوں کو ڈھالنے والے ہوں گے تو تبھی اپنے فائدہ کے بھی سامان کر رہے ہوں گے۔کیونکہ خیر و برکت کے سامان بھی شکر گزاری کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اس لئے نہ صرف شکر کر رہے ہیں بلکہ اپنے لئے اور دوسروں کے لئے خیر و برکت بھی حاصل کر رہے ہوں گے۔بلکہ اللہ تعالیٰ جن قوموں سے جن لوگوں سے خوش ہوتا ہے ان کو شکر گزار بنادیتا ہے۔