خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 50 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 50

$2004 50 مسرور تو جہاں تک انسانیت کا سوال ہے، صرف والدہ کا سوال نہیں ، اس کے ساتھ تو صلہ رحمی کا سلوک کرنا ہی ہے، حسن سلوک کرنا ہی ہے لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ اگر انسانیت کا سوال آئے ،کسی سے صلہ رحمی کا سوال آئے یا مدد کا سوال آئے تو اپنے دوسرے عزیزوں رشتہ داروں سے بھی بلکہ غیروں سے بھی حسن سلوک کا حکم ہے۔پھر ایک روایت ہے حضرت ابو اسید السَّاعِدِی بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ بنی سلمہ کا ایک شخص حاضر ہوا اور پوچھنے لگا کہ یا رسول اللہ! والد ین کی وفات کے بعد کوئی ایسی نیکی ہے جو میں ان کے لئے کر سکوں؟ آپ نے فرمایا ہاں کیوں نہیں۔تم ان کے لئے دعائیں کرو۔ان کے لئے بخشش طلب کرو، انہوں نے جو وعدے کسی سے کر رکھے تھے انہیں پورا کرو۔ان کے عزیز واقارب سے اسی طرح صلہ رحمی اور حسن سلوک کرو جس طرح وہ اپنی زندگی میں ان کے ساتھ کیا کرتے تھے۔اور ان کے دوستوں کے ساتھ عزت واکرام کے ساتھ پیش آؤ۔(ابو داؤد۔کتاب الادب۔باب في بر الوالدين)۔تو یہ ہے ماں باپ سے حسن سلوک کہ زندگی میں تو جو کرنا ہے وہ تو کرنا ہی ہے، مرنے کے بعد بھی ان کے لئے دعائیں کرو، ان کے لئے مغفرت طلب کرو اور اس کے علاوہ ان کے وعدوں کو بھی پورا کرو، ان کے قرضوں کو بھی اتارو۔بعض دفعہ بعض موصی وفات پا جاتے ہیں۔وہ تو بے چارے فوت ہو گئے انہوں نے اپنی جائیداد کا ۱/۱۰ حصہ وصیت کی ہوتی ہے لیکن سالہا سال تک ان کے بچے، ان کے لواحقین ان کا حصہ وصیت ادا نہیں کرتے بلکہ بعض دفعہ انکار ہی کر دیتے ہیں، ہمیں اس کی توفیق نہیں۔گویا ماں باپ کے وعدوں کا پاس نہیں کر رہے، ان کی کی ہوئی وصیت کا کوئی احترام نہیں کر رہے۔والدین سے ملی ہوئی جائیدادوں سے فائدہ تو اٹھا رہے ہیں لیکن ان کے جو وعدے ان ہی کی جائیدادوں سے ادا ہونے والے ہیں وہ ادا کرنے کی طرف توجہ کوئی نہیں۔جبکہ اس جائیداد کا جو دسواں حصہ ہے وہ تو بچوں کا ہے ہی نہیں۔وہ تو اس کی پہلے ہی وصیت کر چکے ہیں۔تو وہ جو ان کی