خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 49 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 49

$2004 49 خطبات مسرور جائیدادیں اپنے نام کروالیں، اب ان کو پرے پھینک دو۔کسی احمدی کی یہ سوچ نہیں ہونی چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تو اسلام کی بھلائی ہوئی تعلیم کو دوبارہ دنیا میں رائج کرنے کے لئے تشریف لائے تھے، اس کے حسن کی چمک دنیا کو دکھانے کے لئے مبعوث ہوئے تھے نہ کہا س کے خلاف عمل کروانے کے لئے۔اب ماں باپ کے حقوق اور ان سے سلوک کے بارہ میں چند روایات پیش کرتا ہوں۔نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا۔اس نے کہا کہ : اے اللہ کے رسول ! میں نے اپنی ماں کو یمن سے اپنی پیٹھ کر اٹھا کر حج کرایا ہے، اسے اپنی پیٹھ پر لئے ہوئے بیت اللہ کا طواف کیا ،صفا ومروہ کے درمیان سعی کی ، اسے لئے ہوئے عرفات گیا ، پھر اسی حالت میں اسے لئے ہوئے مزدلفہ آیا اور منی میں کنکریاں ماریں۔وہ نہایت بوڑھی ہے ذرا بھی حرکت نہیں کر سکتی۔میں نے یہ سارے کام صلى الله اُسے اپنی پیٹھ پر اٹھائے ہوئے سرانجام دئے ہیں تو کیا میں نے اس کا حق ادا کر دیا ہے؟۔آپ می نے فرمایا : ”نہیں، اس کا حق ادا نہیں ہوا۔اس آدمی نے پوچھا: ”کیوں“۔آپ نے فرمایا: اس لئے کہ اس نے تمہارے بچپن میں تمہارے لئے ساری مصیبتیں اس تمنا کے ساتھ جھیلی ہیں کہ تم زندہ رہو مگر تم نے جو کچھ اس کے ساتھ کیا وہ اس حال میں کیا کہ تم اس کے مرنے کی تمنار کھتے ہو تمہیں پتہ ہے کہ وہ چند دن کی مہمان ہے۔(الوعي، العدد ۵۸، السنة الخامسة) اب عام آدمی خیال کرتا ہے کہ اتنی تکلیف اٹھا کر میں نے جو سب کچھ کیا تو میں نے بہت بڑی قربانی کی ہے۔لیکن آپ فرماتے ہیں کہ نہیں۔حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔پھر ایک روایت میں آتا ہے کہ ہمیں ہشام بن عروہ نے بتایا کہ مجھے میرے والد نے بتایا کہ مجھے اسماء بنت ابی بکر نے بتایا میری والدہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں میرے پاس صلہ رحمی کا تقاضا کرتے ہوئے آئی تو میں نے نبی ﷺ سے اس کے بارہ میں دریافت کیا کہ کیا میں اپنی مشرک والدہ سے صلہ رحمی کروں؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ”ہاں“۔(بخاری۔کتاب الهبة۔باب الهدية المشركين)