خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 541
$2004 541 خطبات مسرور دفعہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ صرف دو دن یا آخری دن ہی آجاتے ہیں۔ان کو کوئی مجبوری نہیں ہوتی کیونکہ ہفتہ اتوار تقریباً ہر ایک کا فارغ ہوتا ہے۔اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ جائیں گے آخری دن کچھ ملاقاتیں ہو جائیں گی کچھ لوگوں سے مل لیں گے۔ٹھیک ہے آپ نے ایک مقصد تو پورا کر لیا لیکن صرف یہی مقصد ہی نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت پیدا کرنا سب سے بڑا مقصد ہے۔یہ میں پہلے بھی کہ چکا ہوں کہ تقاریر کو با قاعدہ سنا کریں جس حد تک ممکن ہوسننا چاہئے اور اس میں ڈیوٹی والے کارکنان بھی ، اگر ان کی اس وقت ڈیوٹی نہیں ہے ان کو تقاریر سننے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ان ایام میں پورے التزام سے نمازوں کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دیں۔لنگر خانے یا جہاں جہاں بھی ڈیوٹیاں ہیں وہاں بھی کارکنان کی با قاعدہ نمازوں کی ادائیگی کا انتظام ہونا چاہئے۔اور ان کے افسران کی ذمہ داری ہے کہ اس بات کا خیال رکھیں۔نمازوں کے دوران جو آپ مارکی کے اندر نمازیں پڑھنے کے لئے آتے ہیں تو نماز شروع ہونے سے پہلے ہی آ کے بیٹھ جایا کریں۔کیونکہ یہاں لکڑی کے فرش ہیں گو اس کے اوپر پتلا سا قالین تو بچھا ہوا ہے لیکن چلنے سے اس قدر آواز اور شور آتا ہے کہ جب نماز شروع ہو جائے تو پھر نماز خراب ہو رہی ہوتی ہے۔دوسروں تک جونماز پڑھ رہے ہوتے ہیں آواز ہی نہیں پہنچتی۔کل بھی مغرب کی نماز کے وقت شور کا تسلسل تھا جو دوسری رکعت تک رہا۔اس لئے نماز میں پہلے آکر بیٹھا کریں۔بعض لوگوں کو موبائل فون بڑے اہم ہوتے ہیں (اس وقت بھی شاید کسی کا فون بج رہا ہے اگر اتنے اہم فون آنے کا خیال ہو تو پھر وہ فون رکھیں جو اچھی قسم ہیں جن کی آواز کم کی جاسکتی ہے۔جیب میں رکھیں اس کی وائبریشن (Vibration) سے آپ کو احساس ہو جائے کہ فون آیا ہے اور باہر جا کر سن لیں۔کم از کم لوگوں کو نمازوں کے دوران جلسوں کے دوران اور تقریروں کے دوران ڈسٹرب نہ کیا کریں۔