خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 542
$2004 542 مسرور جلسے کے دوران بازار بند رہنے چاہئیں اور آنے والے مہمان بھی سن لیں اور یہاں رہنے والے بھی سن لیں ، ڈیوٹیاں دینے والے بھی سن لیں۔پہلے کہا جاتا تھا کہ اگر مجبوری ہو تو چند ضرورت کی چیزیں مہیا ہو سکتی ہیں وہ دکانیں کھلی رہیں گی اور انتظامیہ جائزہ لیتی تھی کہ کون کون سی دکانیں کھلی رہیں یا نہ کھلی رہیں۔لیکن کل بازار کا خود میں نے جو جائزہ لیا ہے اس کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ کوئی دکان کھولنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔جلسے کے دوران تمام دکانیں بندر ہیں گی اور دکاندار جنہوں نے سٹال لگائے ہوئے ہیں وہ سب جلسہ کی کارروائی سنیں اور کوئی گاہک بھی ادھر نہیں جائے گا کسی قسم کی خرید و فروخت نہیں ہونی چاہئے۔کیونکہ اگر ایمر جینسی میں کسی چیز کی ضرورت ہو تو جو نظام ہے جلسہ سالانہ کا اس کے تحت وہ چیزیں مہیا ہو جاتی ہیں۔اس لئے کسی قسم کی دکانیں کھولنے کی ضرورت نہیں۔فضول گفتگو سے اجتناب کریں۔آپس کی گفتگو میں دھیما پن اور وقار قائم رکھیں۔سخت گفتگو، تلخ گفتگو سے پر ہیز کرنا چاہئے۔کیونکہ محبت اور بھائی چارے کی فضا بھی اسی طرح پیدا ہو گی۔بات چیت میں بھی ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر نو جوانوں میں تو تو میں میں شروع ہو جاتی ہے۔اس سے اجتناب کرنا چاہئے پر ہیز کرنا چاہئے ، بچنا چاہئے۔ی ٹولیوں میں بعض دفعہ بیٹھے ہوتے ہیں اور قہقہے لگا رہے ہوتے ہیں، باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔یہ بھی اچھی عادت نہیں ہے۔بعض دفعہ بہت سے غیر ملکی بھی یہاں آئے ہوئے ہیں ان لوگوں کی مختلف زبانیں ہیں۔زبانیں نہیں سمجھتے جب آپ بات کر رہے ہوں اور کوئی قریب سے گزرنے والا بعض دفعہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ شاید میرے یہ کوئی تبصرہ ہو رہا ہے یا مجھ پر ہنسا جا رہا ہے۔تو ماحول کو خوشگوار کھنے کے لئے ان چیزوں سے بھی بچنا چاہئے۔