خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 535 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 535

$2004 535 خطبات مسرور اور پر ہیز گاری اور نرم دلی اور باہم محبت اور مواخات میں دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائیں اور انکسار اور تواضع اور راستبازی ان میں پیدا ہو اور دینی مہمات کے لئے سرگرمی اختیار کریں۔پھر فرمایا کہ یہ جلسہ ایسا تو نہیں ہے کہ دنیا کے میلوں کی طرح خواہ نخواہ التزام اس کالا زم ہے۔بلکہ اس کا انعقاد صحت نیت اور حسن ثمرات پر موقوف ہے ورنہ غیر اس کے پیچے۔یعنی اس کی اصل نیت جو ہے وہ روحانی عزت کو بڑھانے کی ہے۔اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کی ہے رسول کی محبت حاصل کرنے کی ہے۔ورنہ تو پھر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔اور فرمایا کہ ” جب تک یہ معلوم نہ ہو اور تجر بہ شہادت نہ دے کہ اس جلسہ سے دینی فائدہ یہ ہے اور لوگوں کے چال چلن اور اخلاق پر اس کا یہ اثر ہے تب تک ایسا جلسہ صرف فضول ہی نہیں بلکہ اس علم کے بعد کہ اس اجتماع سے نتائج نیک پیدا نہیں ہوتے ایک معصیت اور طریق ضلالت اور بدعت شنیعہ ہے۔میں ہرگز نہیں چاہتا کہ حال کے بعض پیرزادوں کی طرح صرف ظاہری شوکت دکھانے کے لئے اپنے مبائعین کو اکٹھا کروں۔صرف اس لئے اکٹھا نہیں کرتا کہ نظر آئے کہ لوگوں کا کتنا مجمع اکٹھا ہو گیا ہے۔بلکہ وہ علت غائی جس کے لئے میں حیلہ نکالتا ہوں اصلاح خلق اللہ ہے۔وہ مقصد جس کے لئے یہ وجہ پیدا کی گئی ہے وہ اللہ کی مخلوق کی اصلاح ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا ایمان ہرگز درست نہیں ہوسکتا جب تک اپنے آرام پر اپنے بھائی کا آرام حتی الوسع مقدم نہ ٹھہرا دے۔اگر میرا ایک بھائی میرے سامنے باوجود اپنے ضعف اور بیماری کے زمین پر سوتا ہے اور میں باوجود اپنی صحت اور تندرستی کے چار پائی پر قبضہ کرتا ہوں تا وہ اس پر بیٹھ نہ جاوے تو میری حالت پر افسوس ہے اگر میں نہ اٹھوں اور محبت اور ہمدردی کی راہ سے اپنی چار پائی اس کو نہ دوں اور اپنے لئے فرش زمین پسند نہ کروں اگر میرا بھائی بیمار ہے اور کسی درد سے لاچار ہے تو میری حالت پر حیف ہے اگر میں اس کے مقابل پر امن سے سویا رہوں۔یعنی میری حالت پر افسوس ہے کہ میں امن سے سویا رہوں۔اور اس کے لئے جہاں تک میرے بس میں ہے