خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 524
$2004 524 خطبات مسرور کرتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ پر یقین ہوتا ہے۔اور ایسا ہی ہوتا ہے جب ضرورت ہوتی ہے فور خدا تعالیٰ بھیج دیتا ہے۔آپ نے فرمایا جس کے مہمان ہیں آپ ہی سنبھال لے گا۔تو اللہ تعالیٰ نے فور ارقم کا انتظام کر دیا۔(سيرت المهدی حصه چهارم غیر مطبوعه روایات نمبر 1126 صفحه 563,564) تو جہاں تک آجکل فی زمانہ مہمان نوازی کے اخراجات کا تعلق ہے وہ تو اللہ تعالیٰ مہیا کرتا ہے اس کی تو کوئی فکر کی بات نہیں ہے لیکن یہ یاد رکھیں کہ مہمانوں کی مہمان نوازی میں کوئی تخصیص یا فرق نہیں ہونا چاہئے۔ایک غیر از جماعت کا آپ کی مہمان نوازی اور جماعت کے احباب کی مہمان نوازی کے بارے میں تبصرہ ہے۔مولوی ابوالکلام آزاد کے بڑے بھائی تھے ابو النصر آہ مئی 1905 ء کو قادیان تشریف لائے اور اخبار وکیل میں اپنے سفر قادیان کی داستان لکھی۔اس میں یہ اس طرح لکھتے ہیں۔میں نے اور کیا دیکھا ، قادیان دیکھا، مرزا صاحب سے ملاقات کی ، مہمان رہا، مرزا صاحب کے اخلاق اور توجہ کا مجھے شکریہ ادا کرنا چاہئے۔میرے منہ میں حرارت کی وجہ سے چھالے پڑ گئے تھے اور میں شور غذا ئیں کھا نہیں سکتا تھا ( یعنی زیادہ نمک مرچ والی نہیں کھا سکتے تھے ) مرزا صاحب نے جبکہ وہ گھر سے تشریف لائے دودھ اور پاؤ روٹی تجویز فرمائی۔کارکنان کو کہا ان کو دودھ اور روٹی دو کیونکہ یہ مرچیں نہیں کھا سکتے۔پھر کہتے ہیں آجکل مرزا صاحب قادیان سے باہر ایک وسیع اور مناسب باغ جو خود انہی کی ملکیت ہے۔میں قیام پذیر ہیں۔بزرگان ملت بھی وہیں ہیں۔قادیان کی آبادی تقریباً 3 ہزار آدمی کی ہے مگر رونق اور چہل پہل بہت ہے۔نواب صاحب مالیر کوٹلہ کی شاندار اور بلند عمارت تمام بستی میں صرف ایک ہی عمارت ہے۔راستے کچے اور نا ہموار ہیں بالخصوص وہ سڑک جو بٹالہ سے قادیان تک آتی ہے۔اپنی نوعیت میں سب پر فوق لے گئی ہے (یعنی کہ ایسی خراب سڑک ہے جو خراب سڑکوں میں یا سفر کی مشکلات میں سب سے بڑھ گئی ہے ) کہتے ہیں آتے ہوئے یکے میں مجھے ٹانگے میں جس قدر تکلیف ہوئی تھی نواب صاحب کے رتھ نے کوٹنے کے وقت