خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 525 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 525

$2004 525 خطبات مسرور تخفیف کر دی۔آئے تو ٹانگے پہ تھے واپسی پر نواب محمد علی خاں صاحب نے رتھ دے دی تھی اس سے کہتے ہیں کہ میرا سفر نسبتاً آسان ہو گیا۔پھر آگے لکھتے ہیں کہ اگر مرزا صاحب کی ملاقات کا اشتیاق میرے دل میں موجزن نہ ہوتا تو شاید آٹھ میل تو کیا آٹھ قدم بھی میں آگے نہ بڑھ سکتا، اتنا گندا راستہ تھا۔پھر کہتے ہیں کہ اکرام ضیف کی صفت خاص اشخاص تک محدود نہ تھی۔چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر ایک نے بھائی کا سا سلوک کیا۔(سیرت حضرت مسیح موعود مرتبه یعقوب علی عرفانی صاحب صفحه 145-144) یہ نمونے ہمیں ہمیشہ قائم رکھنے چاہئیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم پوری توجہ کے ساتھ اور انشراح صدر کے ساتھ خوش دلی سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کر سکیں۔اور یہاں ان دنوں میں کسی کو کوئی بھی تکلیف نہ ہو۔جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ لمبے تجربے سے ماشاء الله اور معاونین بھی اس قابل ہو چکے ہیں کہ ان مہمانوں کی خدمت احسن طور پر انجام دے سکیں۔تو اپنی تمام صلاحیتوں کے ساتھ خدمت کرنی چاہئے اور ہمیشہ صبر ، حو صلے اور دعا کے ساتھ اس خدمت پر کمر بستہ رہیں، اس خدمت کو کرتے رہیں اور اپنے کسی قریبی عزیز کی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر حضرت اقدس مسیح موعود کے مہمانوں کی خدمت کی توفیق پائیں۔علاوہ ان لوگوں کے جوڈیوٹی پر ہیں وہ تو خدمت پر مامور ہیں، خدمت کریں گے لندن میں رہنے والے اور اسلام آباد کے ماحول میں رہنے والوں سے بھی امید ہے کہ وہ بھی مہمان نوازی کے نمونے دکھائیں گے۔اللہ تعالیٰ سب کو توفیق دے۔