خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 518 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 518

518 $2004 خطبات مسرور بعض دفعہ مہمان نا جائز بختی بھی کر جاتے ہیں۔ٹھیک ہے مجھے بھی اس کا تجربہ ہے لیکن کارکنان کو اس کے باوجو د صبر اور حو صلے اور برداشت سے کام لینا چاہئے۔حضرت سید حبیب اللہ صاحب حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے ،اطلاع دی تو حضوڑ باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ آج میری طبیعت علیل تھی اور میں باہر آنے کے قابل نہ تھا مگر آپ کی اطلاع ہونے پر میں نے سوچا کہ مہمان کا حق ہوتا ہے جو تکلیف اٹھا کر آیا ہے۔اس واسطے میں اس حق کو ادا کرنے کے لئے باہر آ گیا ہوں۔(ملفوظات جلد5صفحه 163ـ بدر 14 مارچ 1907) تو جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ مہمانوں کے لئے قربانی کرنی پڑتی ہے۔یہاں بھی یہی سبق ہمیں حضرت اقدس مسیح موعود نے ہمیں دیا ہے کہ باوجود تکلیف کے اور شدید تکلیف کے مہمان کے لئے آپ گھر سے باہر تشریف لے آئے نہیں تو ایسی حالت نہیں تھی کہ ملتے۔خوداظہار فرمایا ، اس لئے ہمیشہ اس سنہری اصول کو یا درکھنا چاہئے کہ گھر آئے مہمان سے ضرور مل لینا چاہئے۔جیسا کہ پہلے میں نے کہا کسی قسم کی ٹال مٹول نہ ہو یا یہ کہ گھر آئے اور بے رخی سے مل کر گھر کا دروازہ بند کر لیں۔کیونکہ یہاں کے بعض لوگوں کو اندازہ نہیں، پرانے رہنے والے ہیں کہ پاکستان وغیرہ ملکوں سے جولوگ آتے ہیں کس طرح پیسہ پیسہ جوڑ کے کرایہ بناتے ہیں اور پھر صرف اس لئے کہ یہاں جلسہ اٹینڈ (attend) کریں گے کیونکہ اس جلسے کی ایک مرکزی حیثیت ہو چکی ہے اور اس لحاظ سے بھی ان کا خیال رکھنا چاہئے۔آپ سب تو یہاں رہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود بیت الفکر میں ایک دفعہ لیٹے ہوئے تھے ایک بیان کرنے والے نے بیان کیا اور کہتے ہیں کہ میں پاؤں دبا رہا تھا کہ حجرے کی کھڑکی پر لالہ شرمپت یا شاید ملا وامل نے دستک دی۔میں اٹھ کر کھڑ کی کھولنے لگا۔لیکن حضرت صاحب نے بڑی جلدی اٹھ کر تیزی سے جاکے مجھ سے پہلے زنجیر کھول دی اور پھر اپنی جگہ بیٹھ گئے اور فرمایا آپ ہمارے مہمان ہیں اور آنحضرت صلی