خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 515
$2004 515 خطبات مسرور ہمارے پاس کچھ اور تو ہے نہیں چلو اپنا گھونسلہ اور اپنا آشیانہ تو ڑ کر نیچے پھینک دیتے ہیں۔ان لکڑیوں کو جلا کے وہ آگ سینک لے گا۔انہوں نے تنکا تنکا کر کے اس گھونسلے کو نیچے پھینک دیا تو مسافر نے اس کو جلایا اور اس کو غنیمت جانا اور آگ لگا کے ٹھنڈ سے بچنے کی کوشش کی۔اس کے بعد پرندوں نے مشورہ کیا کہ مہمان کو یہ آرام تو پہنچ گیا اس کے لئے کھانے کا بھی کوئی انتظام ہونا چاہئے۔اور تو ہمارے پاس کچھ ہے نہیں ہم خود ہی اس آگ میں جا گرتے ہیں۔جب بھن جائیں گے تو مسافر کھالےگا۔(ذکر حبیب صفحه 85تا 87 مصنفه حضرت مفتی محمد صادق صاحب تو اس طرح انہوں نے مہمان نوازی کا حق ادا کیا۔تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے حضرت اماں جان کو یہ کہانی سنائی کہ اس طرح مہمانوں کی خدمت کرنی چاہئے۔آپ یہ نمونہ اپنے لوگوں میں قائم کرنا چاہتے تھے۔اس لئے مہمان نوازی کے لئے ہمیشہ یہ ذہن میں رہنا چاہئے کہ قربانی کرنی پڑتی ہے اور چاہے جتنی مرضی سہولتیں ہوں کچھ نہ کچھ ماحول کے مطابق قربانی کرنی ہی پڑتی ہے۔اس لئے کہتے ہیں کہ مہمان کا آنا رحمت کا باعث ہوتا ہے۔کیونکہ مہمان کے لئے بہر حال قربانیاں کرنی پڑتی ہیں۔یہ مہمان نوازی کے طریقے اور سلیقے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام ہمیں سکھانا چاہتے ہیں اور ہم سے توقع رکھتے ہیں اس کا آج کل اظہار ہونا چاہئے۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارے پاس کسی قوم کا سردار یا معزز آدمی آئے تو اس کی عزت و تکریم کرو۔(سنن ابن ماجه ابواب الادب باب اذا أتاكم كريم قوم فاكرموه یہاں بھی بعض معززین آتے ہیں، بعض تو احمدی نہیں ہوتے اور بعض احمدی بھی ہوتے ہیں۔اپنی اپنی قوم میں ، اپنے ملک میں ان کا اپنا ایک مقام ہوتا ہے۔ان کے ساتھ بہت زیادہ احترام کے ساتھ پیش آنا چاہئے۔یہ ٹھیک ہے کہ ان کے لئے علیحدہ انتظام ہوتا ہے اور انتظامیہ ان کا بہت