خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 514
$2004 514 خطبات مسرور کس قدر حسن سلوک ہونا چاہیئے اور پھر وہ جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان ہیں اس بات کے کس قدر حق دار ہیں کہ ان کی مہمان نوازی میں کوئی بھی کمی نہ آئے۔اب کچھ روایات حضرت اقدس مسیح موعود کی ہیں۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب میں 1901ء میں ہجرت کر کے قادیان آیا اور اپنی بیوی اور بچوں کو ساتھ لایا اس وقت میرے دو بچے جن کی عمر پانچ سال اور ایک سال تھی، ساتھ تھے۔پہلے تو حضرت مسیح موعود نے مجھے وہ کمرہ رہنے کے واسطے دیا جو حضوڑ کے اوپر والے مکان میں حضور کے رہائشی صحن اور کوچہ بندی کے اوپر والے صحن کے درمیان تھا۔اس میں صرف دو چھوٹی چھوٹی چار پائیاں بچھ سکتی تھیں۔چند ماہ ہم وہاں رہے اور چونکہ ساتھ ہی کے برآمدے اور صحن میں حضرت مسیح موعود مع اہل بیت رہتے تھے۔اس واسطے حضرت مسیح موعودؓ کے بولنے کی آواز سنائی دیتی تھی۔ایک شب کا ذکر ہے کہ کچھ مہمان آئے جن کے واسطے جگہ کے انتظام کے لئے حضرت ام المومنین حیران ہو رہی تھیں (یعنی ان کو بڑی گھبراہٹ تھی ) کہ سارا مکان تو پہلے ہی کشتی کی طرح پر ہے۔( بہت بھرا ہوا ہے ) اب ان کو کہاں ٹھہرایا جائے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اکرام ضیف کا ذکر کرتے ہوئے حضرت بیوی صاحبہ کو پرندوں کا ایک قصہ سنایا۔کہتے ہیں کہ کیونکہ میں ساتھ کے کمرے میں تھا اس واسطے مجھے ساری کہانی سنائی دے رہی تھی اور وہ قصہ یہ تھا کہ ایک دفعہ ایک جنگل میں ایک مسافر کو شام ہو گئی رات اندھیری تھی ، قریب کوئی بستی نہیں تھی وہ بیچارا ایک درخت کے نیچے رات گزارنے کے لئے لیٹ گیا۔اس درخت کے اوپر پرندوں کا گھونسلہ تھا۔ان پرندوں نے فیصلہ کیا کہ آج رات یہ ہمارا مہمان ہے اور ہمارا فرض ہے کہ اس کی مہمان نوازی کریں۔تو مادہ نے نر کی اس بات کا اقرار کیا۔پھر ان دونوں نے مشورہ کیا کہ رات ٹھنڈی ہے ہمارے مہمان کو آگ سینکنے کی ضرورت پڑے گی۔آگ تاپنے کی ضرورت پڑے گی تو