خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 513 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 513

$2004 513 خطبات مسرور یہ احمدی ہے۔اس لئے اس کا بھی خیال رکھیں اور پھر اپنے غریب رشتہ داروں سے خاص طور پر صلہ رحمی کا سلوک کرنا چاہئے۔فرمایا کہ عبادت کے بھی اعلیٰ معیار قائم کرو کیونکہ یہ تو ہر مومن سے توقع کی جاتی ہے۔فرض نمازوں کی طرف تو توجہ دو گے ہی، اس کی ادائیگی تو تم کر ہی رہے ہو گے مہمان نوازی کے دنوں میں یہ نہ ہو کہ نمازوں کو بھی بھول جاؤ۔پھر یہ کہ اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ ان حقوق العباد کی ادائیگی کے بعد اب نیکی کے معیار اتنے بلند ہو گئے ہیں اور نمازوں کی ضرورت نہیں رہی۔اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔فرمایا کہ نہیں، حقوق العباد کا تعلق حقوق اللہ سے ہے اور عبادت کے اعلیٰ معیار بھی اس وقت قائم ہوں گے جب بندوں کے حقوق بھی ادا کر رہے ہو گے۔اس لئے دونوں آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ایک کا دوسرے پر انحصار ہے۔تب ہی اعلیٰ معیار قائم ہو سکتے ہیں جو ایک مومن کے لئے چاہئیں اور اگر یہ معیار قائم ہو جائیں تو فرمایا کہ تم بے فکر ہو جاؤ کیونکہ یہ معیار قائم کر کے تم بڑے امن سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتے ہوئے اس کی جنتوں میں داخل ہو جاؤ گے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے صحابہ رضوان اللہ علیھم کی مہمان نوازی صرف مہمانوں تک محدود نہ تھی بلکہ دشمن بھی اس سے محروم نہ تھے۔یہاں تک کہ جنگ کے قیدیوں سے بھی یہی سلوک تھا۔چنانچہ ایک شخص ابوعزیز بن عمیر جو جنگ بدر میں قید ہوئے تھے بیان کرتے ہیں کہ انصار مجھے تو پکی ہوئی روٹی دیتے تھے اور خود کھجور میں وغیرہ کھا کر گزارا کر لیتے تھے اور کئی دفعہ ایسا ہوتا کہ اگران کے پاس روٹی کا چھوٹا ساٹکڑا بھی ہوتا تو وہ مجھے دے دیتے اور خود نہ کھاتے تھے اور اگر میں تامل کرتا یعنی تھوڑ اسا انکار کرتا تو اصرار کے ساتھ کھلاتے تھے۔(السيرة النبوية لابن هشام حصه اول حالات غزوۂ بدر صفحه (۷۰۳ تو یہ ہیں قربانی کے اعلیٰ معیار کہ جنگی قیدیوں سے بھی اتنا حسن سلوک ہو رہا ہے کہ اپنی خوراک کی قربانی دے کر قیدیوں کو کھلایا جا رہا ہے۔تو جب غیروں کے ساتھ یہ سلوک ہو تو اپنوں سے