خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 484
$2004 484 خطبات مسرور بھی استعمال کرو اور پھر اس کے ذریعے سے ان کو محنت کے ذریعے مزید چمکاتے چلے جاؤ۔تو بہر حال اس معاشرے میں رہنے کے لئے اپنے ساتھی انسانوں کے حقوق ادا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم نے جن اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہے ان میں سے ایک خلق مجالس کے حقوق بھی ہیں۔ایک احمدی کو روحانیت سے بھی حصہ ملا ہے اسے اس خلق کی ادائیگی کی طرف خاص طور پر بہت توجہ دینی چاہئے۔پھر مجالس کی بھی کئی قسمیں ہیں کچھ مجلسیں دنیا داری کے لئے لگتی ہیں اور کچھ مجلسیں دین کی خاطر ہوتی ہیں۔لیکن ایک مومن کے لئے دنیا وی مجالس بھی اگر وہ اللہ تعالیٰ کے خوف، خشیت اور تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے لگائی جائیں تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والی بن جاتی ہیں۔قرآن کریم میں مجلسیں لگانے والوں کے لئے مختلف انداز میں نصیحت کی گئی ہے۔کہیں فرمایا کہ تمہاری مجلسیں دینی غرض کے لئے ہوں یا دنیاوی غرض کے لئے ہوں، دنیاوی منفعت کے لئے ہوں ، جو بھی مجالس ہوں، ہمیشہ یاد رکھو ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھو۔اگر تم میرے بندے ہو تو تمہارے منہ سے صرف اچھی بات ہی نکلنی چاہیئے۔ہمیشہ ﴿يَقُوْلُوْا الَّتِيْ هِيَ أَحْسَن کا ہی حکم ہے۔کیونکہ اگر یہ نہیں کرو گے تو تمہارے معاشرے میں، تمہاری مجالس میں ہمیشہ شیطان فساد پیدا کرتا رہے گا۔اور یا درکھو کہ شیطان کی فطرت میں ہے کہ اس نے تمہاری دشمنی کرنی ہی کرنی ہے۔اس لئے تمہیں چاہئے کہ اپنے گھر میں، اپنی بیوی بچوں کے ساتھ مجلس لگا کر بیٹھے ہو یا اپنے خاندان کے کسی فنکشن(Function) میں اکٹھے ہو یا کاروباری مجلس میں ہو یا دینی مجلس میں ہو۔ذیلی تنظیموں کے اجلاسوں میں ہو یا اجتماعات میں ہو، جہاں بھی تم ہو کوئی ایسی بات کرو گے جو دل کو جلانے والی ہو، کسی بھی قسم کی طنزیہ بات ہو یا تم اس مجلس کے آداب اور اصولوں کی پابندی نہیں کر رہے تو ضرور وہاں فساد پیدا ہوگا۔اور شیطان یہی چاہتا ہے۔اس لئے اگر تم صحیح مومن ہو تو اپنی زبان سے اور اپنے عمل سے اس فساد سے بچنے کی کوشش کرتے رہو۔