خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 483
$2004 483 خطبات مسرور پتہ لگا کہ ان میں سے کچھ کمزور بھی ہیں کچھ بڑی عمر کے بوڑھے بھی لگ رہے تھے اور کچھ بچے بھی ، تو کیونکہ ان کو اگلے جنگل میں پہنچنے کے لئے میدان سے گزرنا پڑنا تھا یعنی فارم سے تو ان کو بڑا گروہ نظر آیا تو انہوں نے بھی دیکھا کہ یہ کھلے عام ہیں اور ڈر کے دوڑے ہیں تو پھر آدمی میں بھی تھوڑی سی جرات پیدا ہو جاتی ہے، چار پانچ آدمی تھے ان کے ساتھ ایک کتا تھا، انہوں نے پیچھے دوڑ لگائی تو کہتے ہیں کہ جب وہ کتا جو ان سے آگے آگے دوڑ رہا تھا ان بندروں کے قریب پہنچ گیا تو ان میں سے ایک صحتمند اور پہلوان قسم کا بند ر تھا جو اس گروہ کے پیچھے چل رہا تھا جو شاید ان کی حفاظت کے لئے لگایا گیا ہو تو اس نے جب دیکھا کہ اتنے قریب کتا پہنچ گیا ہے تو وہ آرام سے بیٹھ گیا جس طرح ایک پہلوان بیٹھتا ہے، ٹانگوں پہ ہاتھ رکھ کے اور باقی گروہ دوڑتا چلا گیا۔تو جب کتا اس کے قریب آیا تو اس نے اس زور کا اور جچا تلا انسان کی طرح اس کے تھپڑ مارا ہے کہ وہ کتا چیختا ہوا کئی لڑھکنیاں کھاتا چلا گیا۔پھر اس نے انتظار کیا کہ کوئی اور بھی آئے جب اس نے دیکھ لیا کہ میرے لوگ محفوظ ہو گئے ہیں تو پھر وہ بھی اس گروہ میں شامل ہو گیا۔تو یہ حفاظت کا یا اپنی خود حفاظتی کا جو نظام ہے اللہ تعالیٰ نے ہر جانور میں رکھا ہوا ہے، اپنے اپنے لحاظ سے جو ہر ایک کی سمجھ بوجھ ہے کچھ ایسے جانور بھی ہیں جو سکھائے بھی جاتے ہیں لیکن بہر حال ان کا ایک محدود دائرہ ہے۔اور اسی کے اندر وہ رہ سکتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان کی فطرت میں رکھا ہے اس حد تک ہی وہ کام کر سکتے ہیں ان میں کوئی آداب یا تمیز یا اس قسم کی دوسری یعنی اخلاق وغیرہ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔انہوں نے تو وہی کچھ کرنا ہے جیسا کہ میں نے کہا جو ان کی فطرت میں ہے۔لیکن انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے۔کہ معاشرے میں رہو، اکٹھے ہو کے رہو، مختلف قوموں اور خاندانوں میں تقسیم بھی کیا ہے لیکن ساتھ ہی فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی کرو اور اس کی مخلوق کے حقوق بھی ادا کرو۔اخلاق کے اعلیٰ معیار بھی قائم کرو اور ان میں ترقی کرتے چلے جاؤ۔کیونکہ ایک وسیع میدان ہے جو کھلا ہے۔اسی طرح روحانیت میں بھی ترقی کرواپنے دماغوں کو