خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 473
$2004 473 خطبات مسرور سے نہیں مل سکتا۔اور اگر کسی بات کا علم نہیں تو اس بارے میں پوچھا بھی جاسکتا ہے اور پوچھنا چاہئے تا کہ اچھے برے کی تمیز بھی پتہ لگے، جن کو علم ہو ان سے جا کے پوچھنا چاہئے۔حضرت سلمان فارسی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھی ، پنیر او جنگلی گدھے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حلال وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال قرار دیا ہے اور حرام وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام قرار دیا ہے۔اور وہ اشیاء جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کچھ نہیں فرمایا وہ ایسی اشیاء ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے درگز رفرمایا ہے۔(سنن ابن ماجه کتاب الاطعمه باب أكل الجبن والسمن) تو یہاں بڑا واضح طور پر بتا دیا لیکن جن کے بارے میں کچھ نہیں فرمایا وہاں بھی جب انسان کے تقویٰ کے معیار بڑھتے ہیں تو پھر ایک مومن کا رجحان اسی طرف ہوتا ہے کہ جو واضح حلال ہے اور کسی قسم کا بھی جس میں اشتباہ نہیں ہے وہی استعمال کیا جائے اور جہاں بھی کسی قسم کا شبہ پیدا ہو تو اس سے بچنے کی مومن ہمیشہ کوشش کرتا ہے۔اس لئے ہمیشہ احمدیوں کو جنہوں نے تقویٰ کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے ہیں محتاط راستہ ہی اختیار کرنا چاہئے۔حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان اچھی طرح یاد ہے کہ شک میں ڈالنے والی باتوں کو چھوڑ دو۔شک سے مبر ایقین کو اختیار کرو کیونکہ یقین بخش سچائی اطمینان کا باعث ہے۔اور جھوٹ اضطراب اور پریشانی کا باعث ہوتا ہے۔(ترمذی كتاب صفة القيامة تو اس میں یہ واضح کر دیا جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا ہے کہ بہتر یہی ہے کہ شک والی بات سے بچو۔کیونکہ اگر تم حقیقی خوشی چاہتے ہو تو پھر اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہر کام کرنے کی کوشش کرواس سے تم بہت ساری اور بیماریوں اور پریشانیوں سے بھی بچ جاؤ گے۔