خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 469
$2004 469 خطبات مسرور رہتا ہے کہ کوئی بات نہیں، فلاں کام کرلو، کچھ نہیں ہوتا۔اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ، تم سؤ رکھا تو نہیں سکتے اور یا کھا تو نہیں رہے، یہ تو ایک کاروبار ہے کوئی ڈھکی چھپی بات بھی نہیں ہے، جن کو کھلا رہے ہو ان کو تو یہ چیز پسند ہے اس لئے چوری بھی نہیں ہے، دھو کہ بھی نہیں ہے۔تو یہ بات خوبصورت کر کے شیطان انسان کے دل میں ڈالتا ہے۔اور پھر جب اس پر عمل شروع ہو جائے تو ایک برائی سے دوسری برائی پیدا ہوتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ انسان اس میں پورے طور پر ملوث ہو جاتا ہے، شامل ہو جاتا ہے، وہی حرکتیں کرنے لگ جاتا ہے۔اچھے برے کی تمیز بھی نہیں رہتی ، سب کچھ بھلا بیٹھتے ہیں۔اور روحانی طور پر بھی پھر ایسی حالت میں انسان کمزور ہو جاتا ہے اور پھر صرف دنیا کمانے کی طرف توجہ رہتی ہے اور جائز نا جائز کے فرق کو بھلا بیٹھتے ہیں۔سورۃ الناس کی تشریح میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : پس آخری وصیت یہ کی کہ شیطان سے بچتے رہو۔پھر فرمایا کہ: "رب کی پناہ میں آؤخدا کی معرفت ، معارف اور حقائق پر پکے ہو جاؤ، تو اس سے بچ جاؤ گے۔اب اس بارے میں بھی اگر صحیح طور پر گہرائی میں جا کر غور نہیں کریں گے تو شیطان وسوسہ ڈالے گا، شبہ میں مبتلا کرے گا، کہے گا دیکھو تمہیں غلط طور پر روکا گیا ہے حالانکہ قرآن کریم میں اجازت ہے کہ حد سے آگے نہ نکلو۔اگر مجبوری ہو تو سو رکا گوشت کھالو، اگر مجبور ہو جاؤ تو یہ کر سکتے ہو۔تو شیطان وسوسہ پیدا کر سکتا ہے یہاں کہ کیونکہ تمہارے کاروبار کا سوال ہے، مجبوری ہے، تم اپنی شریعت کے مطابق خود تو نہیں کھا رہے، قانون تمہیں اجازت دیتا ہے یہاں ان مغربی ممالک میں کہ تم دوسروں کو کھلا سکتے ہو اس لئے بے شک کاروبار کرو۔تو یا درکھیں کہ یہ سب شیطان کے وسوسے ہیں جو دلوں میں پیدا کرتا ہے۔ایک برائی میں پھنسیں گے تو دوسری میں بھی پھنتے چلے جائیں گے، دھنتے چلے جائیں گے۔اس لئے مناسب یہی ہے کہ جو لوگ یہ کا روبار کر رہے ہیں وہ اس کو ختم کریں۔