خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 460 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 460

460 $2004 خطبات مسرور اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھی تربیت سے بڑھ کر کوئی بہترین تحفہ نہیں جو باپ اپنی اولا د کو دے سکتا ہو۔(ترمذی ابواب البر والصلة باب في ادب الولد تو اس زمانے میں اور خاص طور پر اس ماحول میں باپوں کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔صرف اپنی باہر کی ذمہ داریاں نہ نبھائیں ، گھروں کی بھی ذمہ داری ہے۔اور اس کو سمجھیں کیونکہ ہر طرف سے معاشرہ اور بگاڑنے والا ما حول منہ کھولے کھڑا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” میرے نزدیک بچوں کو یوں مارنا شرک میں داخل ہے“۔( بعض دفعہ بعض باپوں کو سزائیں دینے کا بہت شوق ہوتا ہے ) ” گویا بد مزاج مارنے والا ہدایت اور ربوبیت میں اپنے تئیں حصہ دار بنانا چاہتا ہے“۔(اپنے آپ کو حصہ دار بنانا چاہتا ہے )۔ایک جوش والا آدمی جب کسی بات پر سزا دیتا ہے تو اشتعال میں بڑھتے بڑھتے دشمن کا رنگ اختیار کر لیتا ہے اور جرم کی حد میں سزا سے کوسوں تجاوز کر جاتا ہے۔اگر کوئی شخص خود دار اور اپنے نفس کی باگ کو قابو سے نہ دینے والا ہو اور پورا تعمل اور بردبار اور باسکون اور باوقار ہو تو اسے البتہ حق پہنچتا ہے ( کہ اگر مغلوب الغضب نہ ہو، غصے میں نہ ہو بلکہ اگر اصلاح کی خاطر سزا دینی ہو تو اس کو حق ہے کہ کسی وقت مناسب پر کسی حد تک بچہ کوسزادے یا چشم نمائی کرے ( یا اس کو معاف کر دے) مگر مغلوب الغضب اور سبک سر اور طائش العقل ہرگز سزاوار نہیں کہ بچوں کی تربیت کا متکفل ہو۔پھر فرمایا کہ : ” جس طرح اور جس قدر سزا دینے میں کوشش کی جاتی ہے کاش دعا میں لگ جائیں اور بچوں کے لئے سوز دل سے دعا کرنے کو ایک حزب ٹھہرا لیں اس لئے کہ والدین کی دعا کو بچوں کے حق میں خاص قبول بخشا گیا ہے۔(ملفوظات جلد اول صفحه ۳۰۸ ، ۳۰۹ الحكم ۱۷ جنوری ۱۹۰۰ء) بعض لوگ صرف اپنے بچوں تک ہی ربوبیت میں حصہ دار نہیں بنتے بلکہ دوسروں میں اور