خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 461 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 461

$2004 461 خطبات مسرور نظام میں بھی دخل اندازی کر کے اپنے آپ کو بالا سمجھنے لگ جاتے ہیں۔اب کل ہی یہاں مسجد میں ایک واقعہ ہوا ہے۔وقف نو کی کلاس تھی اور کینیڈا والوں کی کلاس تھی واقفین نو کی۔تو امریکہ سے ایک شخص اپنے بچے کے ساتھ آیا ہوا تھا اور زبردستی کوشش تھی کہ میرا بچہ بھی کلاس میں بیٹھے گا اور اس حد تک مغلوب الغضب ہو گیا کہ انتظامیہ سے بھی لڑائی شروع کر دی اور بچے کو بھی ڈانٹنا اور مارنا شروع کر دیا بلکہ بچے بیچارے کو غصے میں سیڑھیوں سے نیچے پھینک دیا۔وہ تو شکر ہے کہ اس کو چوٹیں زیادہ نہیں لگیں اور غصے میں وہ شخص اتنی اونچی بول رہا تھا کہ باہر سے مسجد کے اندر تک آواز میں آرہی تھیں۔تو ایسے لوگوں کو یا درکھنا چاہئے کہ ہمارا رب صرف ایک رب ہے جو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے۔اور تمہارے اس غصے سے تمہاری اس بد اخلاقی سے اور تو کچھ نہیں ہو گا سوائے اس کے کہ تمہارے اپنے اخلاق ظاہر ہو جائیں کہ وہ کیا ہیں۔اس لئے استغفار کرو ورنہ ایسے لوگ پھر یا درکھیں کہ اگر اصلاح کی کوشش نہ کی تو خود ہی اپنی بربادی کے سامان کرتے رہیں گے اور اسی میں گر جائیں گے۔ایک روایت ہے، حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بچوں کے ساتھ عزت سے پیش آؤ اور ان کی اچھی تربیت کرو۔(ابن ماجه ابواب الادب باب برالوالد تو اپنے بچوں میں عزت نفس پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی عزت کی جائے اس کو آداب سکھائے جائیں اس کی ایسے رنگ میں تربیت ہو کہ وہ دوسروں کی بھی عزت اور احترام کرنے والا ہو۔اس طرح نہ اس کی تربیت کریں کہ اس عزت کی وجہ سے جو آپ اس کی کر رہے ہیں وہ خودسر ہو جائے، بگڑنا شروع ہو جائے، اپنے آپ کو دوسروں سے بالا سمجھنے ، دوسروں سے زیادہ سمجھنے لگ جائے اور دوسرے بچوں کو بھی اپنے سے کم تر سمجھے اور بڑوں کا احترام بھی اس کے دل میں نہ ہو۔تو تربیت ایسے رنگ میں کی جانی چاہئے کہ اعلیٰ اخلاق بھی بچے کو ساتھ ساتھ آئیں۔تو یہ صاحب بھی جو وقف نو بچے کے باپ ہیں اپنی بھی اصلاح کریں تبھی ان کا بچہ وقف نو کہلانے کا مستحق ہو سکتا ہے۔