خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 454 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 454

$2004 454 خطبات مسرور کی خرابی کی وجہ سے پہلے کھانا کھالے تو ایک قیامت برپا ہو جاتی ہے۔موڈ بگڑ جاتے ہیں کہ تم نے میرا انتظار کیوں نہیں کیا۔ہمارے معاشرے میں پاکستانی، ہندوستانی اس مشرقی معاشرے میں یہ بات زیادہ پیدا ہوتی جارہی ہے، پہلے بھی تھی لیکن پڑھے لکھے ہونے کے ساتھ ساتھ ختم ہونی چاہئے تھی ، اس کی بھی اصلاح کرنی چاہئے۔اور زیادہ سے میرا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک دو فیصد بھی ہمارے اندر ہے تب بھی قابل فکر ہے، بڑھ سکتی ہے۔پھر اس وجہ سے خاوند تو جو ناراض ہوتا ہے بیوی سے تو ہوتا ہے، ساس سسر بھی ناراض ہو جاتے ہیں اپنی بہو سے۔کہ تم نے کیوں انتظار نہیں کیا۔پھر ایک روایت ہے۔آنحضرت کی ایک بیوی حضرت صفیہ تھیں جو رسول اللہ کے شدید معاند اور یہودی قبیلہ بنونضیر کے سردار حیی بن اخطب کی بیٹی تھیں۔جنگ خیبر سے واپسی پر آنحضرت نے اونٹ پر حضرت صفیہ کے لئے خود جگہ بنائی۔آپ نے جو عبا زیب تن کر رکھا تھا اسے اتار کر اور تہہ کر کے حضرت صفیہ کے بیٹھنے کی جگہ پر بچھا دیا۔پھر ان کو سوار کرتے ہوئے آپ نے اپنا گھٹنا ان کے آگے جھکا دیا۔اور فرمایا کہ اس پر پاؤں رکھ کر اونٹ پر سوار ہو جاؤ۔(بخاری کتاب المغازى باب غزوة خيبر) تو دیکھیں کس طرح آپ نے بیوی کا خیال رکھا۔یہ نمونے آپ نے ہمیں عمل کرنے کے لئے دیئے ہیں۔آج کل بعض لوگ صرف اس خیال سے بیویوں کا خیال نہیں رکھتے کہ لوگ کیا کہیں گے کہ بیوی کا غلام ہو گیا ہے۔بلکہ حیرت ہوتی ہے بعض لڑکوں کے، مردوں کے بڑے بزرگ رشتہ دار بھی بچوں کو کہہ دیتے ہیں کہ بیوی کے غلام نہ بنو۔بجائے اس کے کہ آپس میں ان کی محبت اور سلوک میں اضافہ کرنے کا باعث نہیں۔اپنے لئے کچھ اور پسند کر رہے ہوتے ہیں ، دوسروں کے لئے کچھ اور پسند کر رہے ہوتے ہیں۔پھر ایک روایت میں آتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جونمونہ گھر یلو زندگی میں ہے ہر لحاظ سے مثالی اور بہترین تھا آپ اپنے اہل خانہ کے نان و نفقہ کا بطور خاص اہتمام فرماتے تھے۔