خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 455 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 455

$2004 455 خطبات مسرور یعنی جو ان کے اخراجات ہیں ان کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔حتی کہ اپنی وفات کے وقت بھی ازواج مطہرات کے نان نفقہ کے بارے میں تاکیدی ہدایت کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کا خرچہ ان کو با قاعدگی کے ساتھ ادا کیا جائے۔(بخاری کتاب الوصايا باب نفقة القيم للوقف) اس بات سے وہ مرد جو عورتوں کے مال پر نظر رکھے رہتے ہیں، انہیں یا درکھنا چاہئے کہ یہ ذمہ داری ان کی ہے اور عورت کی رقم پر ان کا کوئی حق نہیں۔اپنے بیوی بچوں کے خرچ پورے کرنے کے وہ مرد خود ذمہ دار ہیں۔اس لئے جو بھی حالات ہوں چاہے مزدوری کر کے اپنے گھر کے خرچ پورے کرنے پڑیں ان کا فرض ہے کہ وہ گھر کے خرچ پورے کریں۔اور اس محنت کے ساتھ اگر دعا بھی کریں تو پھر اللہ تعالیٰ برکت بھی ڈالتا ہے اور کشائش بھی پیدا فرماتا ہے۔ایک روایت ہے حضرت سلمان بن احوص روایت کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ وہ حجۃ الوداع کے موقع پر آنحضور کے ہمراہ موجود تھے۔اس موقع پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حمد و ثناء کے بعد وعظ ونصیحت فرمائی اور پھر فرمایا کہ عورتوں کے بارے میں ہمیشہ بھلائی کے لئے کوشاں رہو کیونکہ وہ تمہارے ساتھ قیدیوں کی طرح بندھی ہوئی ہیں۔تم ان پر کوئی حق ملکیت نہیں رکھتے سوائے اس کے کہ وہ کھلی کھلی بے حیائی کی مرتکب ہوں ( یعنی تمہارا حق ملکیت نہیں کہ جب چا ہو مارنا شروع کر دو جب چاہو جو مرضی سلوک کر لو۔سوائے اس کے کہ وہ بے حیائی کی مرتکب ہوں۔اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم ان کے کپڑوں اور کھانے کا بہترین خیال رکھو۔(ترمذی کتاب الرضاع باب ما جاء في حق المرأة في حق المرأة حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ساری باتوں کے کامل نمونہ ہیں آپ کی زندگی میں دیکھو کہ آپ عورتوں کے ساتھ کیسی معاشرت کرتے تھے۔میرے نزدیک وہ شخص بزدل اور نامرد ہے جو عورت کے مقابلے میں کھڑا ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی کا مطالعہ کرو تمہیں معلوم ہو کہ آپ ایسے خلیق تھے۔