خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 447
$2004 447 خطبات مسرور درست ہے کہ تم دن بھر روزے رکھے رہتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو یعنی نمازیں پڑھتے رہتے ہو، اس پر میں نے عرض کی ہاں یارسول اللہ۔تو پھر آپ نے فرمایا ایسانہ کر کبھی روزہ رکھو کبھی چھوڑ دو،رات کو قیام کرو اور سو بھی جایا کرو۔کیونکہ تمہارے بدن کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری زیارت کو آنے والے کا بھی تم پر حق ہے۔(بخاری کتاب الصوم باب حق الجسم في الصوم) تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھر کے سربراہ کی حیثیت سے گھر والوں کے حقوق کس طرح ادا کیا کرتے تھے اس بارے میں حضرت اسود کی روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے دریافت کیا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم گھر پر کیا کیا کرتے تھے۔آپ نے فرمایا وہ اپنے اہل خانہ کی خدمت میں لگے رہتے تھے اور جب نماز کا وقت ہو جاتا تو نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔(صحیح بخاری کتاب الاذان من كان في حاجة اهله) تو آپ سے زیادہ مصروف اور آپ سے زیادہ عبادت گزار کون ہو سکتا ہے۔لیکن دیکھیں آپ کا اسوہ کیا ہے کتنی زیادہ گھر یلو معاملات میں دلچسپی ہے کہ گھر کے کام کاج بھی کر رہے ہیں اور دوسری مصروفیات میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ حسن سلوک میں بہتر ہے، اور فرمایا کہ میں تم سے بڑھ کر اپنے اہل خانہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا ہوں۔(ترمذی کتاب المناقب باب فضل ازواج النبي ) صل الله ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا ہم اس خوبصورت نمونہ پر ، اس اسوہ پر عمل کرتے ہیں؟ بعض ایسی شکایات بھی آتی ہیں کہ ایک شخص گھر میں کرسی پہ بیٹھا اخبار پڑھ رہا ہے، پیاس لگی تو بیوی کو آواز دی کہ فریج میں سے پانی یا جوس نکال کر مجھے پلا دو۔حالانکہ قریب ہی فریج پڑا ہوا ہے خود نکال کر پی سکتے ہیں۔اور اگر بیوی بیچاری اپنے کام کی وجہ سے یا مصروفیت کی وجہ سے یا کسی وجہ سے لیٹ ہوگئی تو پھر اس پر گر جنا، برسنا شروع کر دیا۔تو ایک طرف تو یہ دعویٰ ہے کہ ہمیں آنحضرت صلی