خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 435
$2004 435 خطبات مسرور سفروں میں بہت دقت پیدا ہو جاتی ہے۔پھر اوقات کی پابندی نہ ہونے کی وجہ سے نمازوں کی ادائیگی میں باقاعدگی نہیں رہتی ، سونے جاگنے میں باقاعدگی نہیں رہتی۔جن کو وقت پر فجر کی نماز پڑھنے کی عادت بھی ہو وہ بھی بعض دفعہ سفر کی وجہ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے اور نماز چھوٹ جاتی ہے۔اور بعض لوگ جس طرح کہ پہلے میں نے کہا کہ رات دیر تک مجلسیں لگانے کی وجہ سے ان کی نمازیں قضا ہو جاتی ہیں۔تو جب اللہ کے حقوق ادا نہ ہور ہے ہوں تو پھر سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہی بن جاتا ہے۔پھر ایک روایت میں ہے حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو شخص کسی مکان میں رہائش اختیار کرتے یا کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے وقت یہ دعا مانگے کہ میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں اور اس شر سے جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے پناہ چاہتا ہوں۔عربی میں الفاظ یہ ہیں اَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۔تو فرمایا کہ جب یہ دعامانگو گے تو اس شخص کو رہائش اختیار کرنے یا اس جگہ سے کوچ کرنے تک کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی۔(مسلم کتاب الذكر باب التعوذ من سوء القضاء ودرك الشقاء وشره تو سچی نیت سے تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے جب مومن سچے دل سے یہ دعا مانگے گا تو اللہ تعالیٰ کے رسول ضمانت دیتے ہیں کہ پھر تم ہر شر سے محفوظ رہو گے۔تو اس سفر میں بھی جو آپ کا خالصتہ اللہی سفر ہے اور آئندہ ہر قسم کے سفر میں اس دعا کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔دعاؤں پر زور دیں اور ہمیشہ سفروں میں دعاؤں پر زور دیتے رہیں کہ مسافر کی دعائیں بھی بہت قبول ہوتی ہیں۔ایک روایت ہے، آپ نے فرمایا: تین دعائیں ایسی ہیں جو قبولیت کا شرف پاتی ہیں۔مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور باپ کی بیٹے کے بارے میں بد دعا۔(ترمذى كتاب الدعوات باب ما ذكر في دعوة المسافر