خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 431 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 431

$2004 431 خطبات مسرور واپس ہوا تو آپ نے دعا کی کہ اے اللہ ! اس کی دوری کو لپیٹ دے۔یعنی اس کا سفر آسان کر دے اور طے کردے۔(ترمذی كتاب الدعوات باب ما يقول اذا ودع انسانا) ایک تو اس میں یہ سبق ہے کہ جب بھی سفر پر روانہ ہوں پہلے دعا کر کے چلنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہر سفر کی مشکل اور پریشانی اور صعوبت سے بچائے ، تکلیف سے بچائے۔آنحضرت ﷺ نے ہمیں سفر کرنے کے بارے میں جو طریق سکھلائے ان میں سے کچھ بیان کرتا ہوں۔جیسا کہ اس حدیث میں ہے کہ دعا کر کے چلنا چاہئے۔پھر سفر میں دعامانگے وہ دعا بھی ہمیں سکھا دی کہ سفر شروع کرنے سے پہلے جب سواری پر بیٹھ جائیں تو تین بار تکبیر کہتے ہوئے یہ دعا مانگو سُبْحَانَ الَّذِئ سَخَّرَلَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ۔وَإِنَّا إِلَى رَبَّنَا لَمُنْقَلِبُونَ ﴾ (الزخرف: ۱۴)۔یعنی پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے تابع فرمان کیا حالانکہ ہم اسے قابو میں رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔اور ہم اپنے رب کی طرف ہی جانے والے ہیں۔پھر اور آگے دعائیں ہیں کہ اے ہمارے خدا! ہم تجھ سے اپنے سفر میں بھلائی اور تقویٰ چاہتے ہیں۔تو ہمیں ایسے نیک عمل کرنے کی توفیق دے جو تجھے پسند ہیں۔اے ہمارے خدا! تو ہی ہمارا یہ سفر آسان کر دے اور اس کی دوری کو لپیٹ دے۔اے ہمارے خدا! تو سفر میں ہمارے ساتھ ہو اور پیچھے گھر میں بھی خبر گیر ہو۔اے ہمارے خدا! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفر کی سختیوں سے، ناپسندیدہ اور بے چین کرنے والے مناظر سے، مال اور اہل وعیال میں برے نتیجے سے اور غیر پسندیدہ تبدیلی سے۔پھر جب آپ سفر سے واپس آتے تو یہی دعا مانگتے۔اس میں یہ زیادتی فرماتے کہ ہم واپس آتے ہیں تو بہ کرتے ہوئے ، عبادت گزار اور اپنے رب کی تعریف میں رطب اللسان بن کر۔یعنی اسی کی تعریف کرتے رہتے ہیں۔تو دیکھیں کیسی جامع دعائیں ہیں۔اُس زمانے میں اگر اونٹ اور گھوڑے کی سواری تھی