خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 420
$2004 420 خطبات مسرور دوران مختلف جگہوں پر میں نے پوچھا ہے تو ابھی تک یا تو بچوں نے ذہن ہی نہیں بنایا ہوا 16-17 سال کی عمر کو پہنچ کے بھی ، یا پھر کسی ایسے شعبے کا نام لیتے ہیں جس کی فوری طور پر جماعت کو شاید ضرورت بھی نہیں ہے۔مثلاً کوئی کہتا ہے کہ میں نے پائلٹ بننا ہے۔پھر بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں تو کھیلوں سے دلچسپی ہے، کرکٹر بننا ہے یا فٹ بال کا پلیئر (Player) بننا ہے۔یہ تو پیشے واقفین نو کے لئے نہیں ہیں۔صرف اس لئے کہ بچوں کی صحیح طرح کونسلنگ (Councling) ہی نہیں ہو رہی ان کی رہنمائی نہیں ہو رہی ، اور اس وجہ سے ان کو کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ ان کا مستقبل کیا ہے۔تو ماں باپ بھی صرف وقف کر کے بیٹھ نہ جائیں بلکہ بچوں کو مستقل سمجھاتے رہیں۔میں یہی مختلف جگہوں پر ماں باپ کو کہتا رہا ہوں کہ اپنے بچوں کو سمجھاتے رہیں کہ تم وقف نو ہو ہم نے تم کو وقف کیا ہے تم نے جماعت کی خدمت کرنی ہے، اور جماعت کا ایک مفید حصہ بنا ہے اس لئے کوئی ایسا پیشہ اختیار کر و جس سے تم جماعت کا مفید وجود بن سکو۔پھر ایسے بچے بھی ملے ہیں کہ بڑی عمر کے ہونے کے باوجود ان کو یہ نہیں پتہ کہ وہ واقف نو ہیں اور وقف نو ہوتی کیا چیز ہے۔ماں باپ کہتے ہیں کہ وقف نو میں ہیں۔پھر بعض یہ کہتے ہیں کہ ماں باپ نے وقف کیا ہے لیکن ہم کچھ اور کرنا چاہتے ہیں تو جب ایسی فہرستیں تیار ہوں گی سامنے آ رہی ہوں گی، ہر ملک میں جب تیار ہو رہی ہوگی تو ہمیں پتہ لگ جائے گا کہ کتنے ایسے ہیں جو بڑے ہو کر جھڑ رہے ہیں اور کتنے ایسے ہیں اور کس ملک میں ایسے ہیں جہاں سے ہمیں مبلغ ملیں گے اور کتنے ایسے ہیں جن میں سے ہمیں ڈاکٹر ملیں گے، کتنے انجینئر ملیں گے یا ٹیچر ملیں گے وغیرہ پھر جو ڈاکٹر بنتے ہیں ان کی ڈاکٹری کے شعبے میں بھی دلچسپیاں ہر ایک کی الگ ہوتی ہیں تو اس دلچسپی کے مطابق بھی ان کی رہنمائی کی جاسکتی ہے۔اس کے لئے بھی ملکوں کو مرکز سے پوچھنا ہوگا تا کہ ضرورت کے مطابق ان کو بتایا جائے۔بعض دفعہ ہوتا ہے کہ کسی نے ڈاکٹر بننا ہے۔صرف ایک شعبے میں دلچسپی نہیں ہوتی ، دو تین میں ہوتی ہے تو ضرورت کے مطابق رہنمائی کی جاسکتی ہے کہ فلاں