خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 419
419 $2004 خطبات مسرور وہ انگریزی، عربی، اردو اور ملکی زبان جو سیکھ رہی ہیں جب سیکھیں تو اس میں اتنا عبور حاصل کر لیں، (میں نے دیکھا ہے کہ زیادہ تر لڑکیوں میں زبانیں سیکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے ) کہ جماعت کی کتب اور لٹریچر وغیرہ کا تر جمہ کرنے کے قابل ہوسکیں تبھی ہم ہر جگہ نفوذ کر سکتے ہیں۔مجھے یاد ہے گھانا کے نارتھ میں کیتھولک چرچ تھا، چھوٹی سی جگہ پہ ( میں بھی وہاں رہا ہوں ) تو پادری یہاں انگلستان کا رہنے والا تھا وہ ہفتے میں چار پانچ دن موٹر سائیکل پر بیٹھ کر جنگل میں جایا کرتا تھا۔میں نے اس سے پوچھا کہ تم وہاں کیا کرنے جاتے ہو۔اس نے بتایا کہ ایک قبیلہ ہے،ان کی باقیوں سے زبان ذرا مختلف ہے اور ان کی آبادی صرف دس پندرہ ہزار ہے اور وہ صرف اس لئے وہاں جاتا ہے کہ ان کی وہ زبان سیکھے اور پھر اس میں بائبل کا ترجمہ کرے۔تو ہمارے لوگوں کو اس طرف خاص طور پر واقفین نو بچے جو تیار ہورہے ہیں، توجہ ہونی چاہئے تا کہ خاص طور پر ہر زبان کے ماہرین کی ایک ٹیم تیار ہو جائے۔بہت سے بچے ایسے ہیں جواب یو نیورسٹی لیول تک پہنچ چکے ہیں ، وہ خود بھی اس طرف توجہ کریں جیسا کہ میں نے کہا اور جوملکی شعبہ واقفین نو کا ہے وہ بھی ایسے بچوں کی لسٹیں بنائیں اور پھر ہر سال یہ فہرستیں تازہ ہوتی رہیں کیونکہ ہر سال اس میں نئے بچے شامل ہوتے چلے جائیں گے۔ایک عمر کو پہنچنے والے ہوں گے۔اور صرف اسی شعبے میں نہیں بلکہ ہر شعبے میں عموماً جو ہمیں موٹے موٹے شعبے جن میں ہمیں فور اواقفین زندگی کی ضرورت ہے وہ ہیں مبلغین ، پھر ڈاکٹر ہیں، پھر ٹیچر ہیں ، پھر اب کمپیوٹر سائنس کے ماہرین کی بھی ضرورت پڑ رہی ہے۔پھر وکیل ہیں، پھر انجینئر ہیں، زبانوں کے ماہرین کا میں نے پہلے کہہ دیا ہے پھر ان کے آگے مختلف شعبہ جات بن جاتے ہیں، پھر اس کے علاوہ کچھ اور شعبے ہیں۔تو جو تو مبلغ بن رہے ہیں ان کا تو پتہ چل جاتا ہے کہ جامعہ میں جانا ہے اور جامعہ میں جانا چاہتے ہیں اس لئے فکر نہیں ہوتی پتہ لگ جائے گا لیکن جو دوسرے شعبوں میں یا پیشوں میں جا رہے ہوں ان میں سے اکثر کا پتہ ہی نہیں لگتا۔اب دوروں کے