خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 418
$2004 418 مسرور تو علم کی یہ اہمیت ہے، علم حاصل کرنے کے لئے یہاں بھی مغرب میں لوگ آتے ہیں۔بڑی دور دور سے پڑھنے کے لئے ایشیئنز ملکوں سے۔اگر ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی رضا بھی مقصود ہو تو اللہ تعالیٰ ان کے حصول تعلیم کو بھی آسان کر دیتا ہے ، ان کے لئے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اتنی آسانیاں پیدا کر دیتا ہے کہ اس دنیا میں بھی ان کے لئے جنت پیدا ہو جاتی ہے۔اور احمدی طالب علم خاص طور پر یہاں جو آ رہے ہیں جیسا کہ میں نے کہا ، ان کا صرف اور صرف ایک ہی مقصد ہونا چاہئے کہ انہوں نے تعلیم حاصل کرنی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے ماتحت چلتے ہوئے تعلیم حاصل کرنی ہے۔یہاں کی رونقیں اور دوسرے شوق ان کو اس مقصد کے حصول سے ہٹانے والے نہ ہو جائیں۔یہ نیت ہو تو اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرتے ہوئے یہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہے اور اس سے دوسروں کو بھی فائدہ پہنچانا ہے۔اور اگر کوئی حصہ تعلیم اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف ہے تو پھر اس کو بھی دنیا پر واضح کرنا ہے گہرائی میں جا کے بھی علم حاصل کرنا چاہئے۔پھر ایک روایت ہے حضرت زید بن ثابت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سریانی زبان سیکھنے کا حکم فرمایا اور ایک روایت میں ہے کہ حضور علیہ السلام نے مجھے فرمایا کہ یہودیوں کی خط و کتابت کی زبان سیکھو کیونکہ مجھے یہودیوں پر اعتبار نہیں کہ وہ میری طرف سے کیا لکھتے ہیں اور کیا کہتے ہیں۔زید کہتے ہیں کہ پندرہ دن ہی گزرے تھے کہ میں نے سریانی میں لکھنا پڑھنا سیکھ لیا۔اس کے بعد جب بھی حضور علیہ السلام کو یہود کی طرف کچھ لکھنا ہوتا تو مجھ سے لکھواتے اور جب ان کی طرف سے کوئی خط آتا تو میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کر سناتا تھا۔(ترمذی ابواب الادب باب ما جاء في تعليم السريانية) اس ضمن میں میں واقفین نو سے بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ واقفین نو جو شعور کی عمر کو پہنچ چکے ہیں اور جن کا زبانیں سیکھنے کی طرف رجحان بھی ہے اور صلاحیت بھی ہے۔خاص طور پر لڑکیاں۔