خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 406 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 406

خطبات مسرور $2004 406 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: فَتَعْلَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَى إِلَيْكَ وَحْيُهُ۔وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا﴾ (سورة طه آیت 115) اس آیت کا ترجمہ یہ ہے۔پس اللہ سچا بادشاہ ہے، بہت رفیع الشان ہے، پس قرآن کے پڑھنے میں جلدی نہ کیا کر پیشتر اس کے کہ اس کی وحی تجھ پر مکمل کر دی جائے۔اور یہ کہا کر کہ اے میرے رب مجھے علم میں بڑھا دے۔اصل جو دعا اس میں سکھائی گئی ہے وہ ہے ﴿ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا ﴾۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ دعا سکھا کر مومنوں پر بہت بڑا احسان کیا ہے یہ دعا صرف برائے دعا ہی نہیں کہ منہ سے کہہ دیا کہ اے اللہ میرے علم میں اضافہ کر اور یہ کہنے سے علم میں اضافے کا عمل شروع ہو جائے گا۔بلکہ یہ توجہ ہے مومنوں کو کہ ہر وقت علم حاصل کرنے کی تلاش میں بھی رہو، علم حاصل کرنے کی کوشش بھی کرتے رہو۔طالب علم ہو تو محنت سے پڑھائی کرو اور پھر دعا کرو تو اللہ تعالیٰ حقائق اشیاء کے راستے بھی کھول دے گا۔علم میں اضافہ بھی کر دے گا اور پھر صرف یہ طالب علموں تک ہی بس نہیں ہے بلکہ بڑی عمر کے لوگ بھی یہ دعا کرتے ہیں۔اور اس دعا کے ساتھ اس کوشش میں بھی لگے رہیں کہ علم میں اضافہ ہو اور اس کی طرف قدم بھی بڑھا ئیں۔تو یہ ہر طبقے کے سب عمروں کے لوگوں کے لئے یہی دعا ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ اطلبُوا الْعِلْمَ مِنَ الْمَهْدِ إِلَى اللَّحْدِ یعنی چھوٹی عمر سے