خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 397 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 397

$2004 397 خطبات مسرور بعض بچیاں بھی اس طرح ضائع ہو جاتی ہیں۔جن کا بہر حال افسوس ہوتا ہے۔تو اگر والدین شروع سے ہی اس بات کا خیال رکھیں تو یہ مسائل پیدا نہ ہوں۔پھر بچوں کو بھی میں کہتا ہوں کہ اپنے دوست سوچ سمجھ کر بناؤ۔یہ نہ سمجھو کہ والدین تمہارے دشمن ہیں یا کسی سے روک رہے ہیں بلکہ سولہ سترہ سال کی عمر ایسی ہوتی ہے کہ خود ہوش کرنی چاہئے ، دیکھنا چاہئے کہ ہمارے جو دوست ہیں بگاڑنے والے تو نہیں، اللہ تعالیٰ سے دور لے جانے والے تو نہیں ہیں۔کیونکہ جو اللہ تعالیٰ سے دور لے جانے والے ہیں وہ تمہارے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔تمہارے ہمدرد نہیں ہو سکتے، تمہارے بچے دوست نہیں ہو سکتے۔اور ایک احمدی بچے کو تو کیونکہ صادقوں کی صحبت سے فائدہ اٹھاتا ہے اس لئے یاد رکھیں کہ یہ گروہ شیطان کا گروہ ہے صادقوں کا گروہ نہیں اس لئے ایسے لوگوں میں بیٹھ کے اپنی بدنامی کا باعث نہ بنیں، ایسے بچوں یا نو جوانوں سے دوستی لگا کے اپنے خاندان کی بدنامی کا باعث نہ بنیں اور ہمیشہ نظام سے تعلق رکھیں۔نظام جو بھی آپ کو سمجھاتا ہے آپ کی بہتری اور بھلائی کیلئے سمجھاتا ہے۔نمازوں کی طرف توجہ دیں۔قرآن پڑھنے کی طرف توجہ دیں اللہ تعالیٰ ہمارے ہر بچے کو ہر شیطانی حملے سے بچائے۔حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ : " آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال ان دو شخصوں کی طرح ہے جن میں سے ایک کستوری اٹھائے ہوئے ہو اور دوسرا بھٹی جھونکنے والا ہو۔کستوری اٹھانے والا تجھے مفت خوشبو دے گا یا تو اس سے خرید لے گا۔ورنہ کم از کم تو اس کی خوشبو اور مہک سونگھ ہی لے گا۔اور بھٹی جھو نکنے والا یا تیرے کپڑوں کو جلا دے گا یا اس کا بد بودار دھواں تجھے تنگ کرے گا“۔(مسلم کتاب البر والصلة - باب استحباب مجالسة الصالحين) تو اللہ تعالیٰ ہم سب کو کستوری کی خوشبو بانٹنے والا بنائے اور ہمارے اندر وہ پاک تبدیلیاں پیدا ہوں جو نہ صرف ہمیں فائدہ پہنچارہی ہوں بلکہ لوگ بھی ہم سے فائدہ اٹھا رہے ہوں۔پس اس